خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 173
$2003 173 خطبات مسرور آپ کا مشورہ ہے وہی صحیح ہے۔ہمیں مدینہ میں ٹھہر کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔آپ نے فرمایا: خدا کا نبی جب زرہ پہن لیتا ہے تو اتارا نہیں کرتا۔اب خواہ کچھ ہو ہم آگے ہی جائیں گے۔اگر تم نے صبر سے کام لیا تو خدا کی نصرت تم کو مل جائے گی۔یہ کہہ کر آپ ایک ہزار لشکر کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور تھوڑے فاصلے پر جا کر رات بسر کرنے کے لئے ڈیرہ لگایا۔آپ کا ہمیشہ طریق تھا کہ آپ دشمن کے پاس پہنچ کر اپنے لشکر کو کچھ دیر آرام کرنے کا موقع دیا کرتے تھے۔تا کہ وہ اپنے سامان وغیرہ تیار کر لیں۔صبح کی نماز کے وقت جب آپ نکلے تو آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ یہودی بھی اپنے معاہد قبیلوں کی مدد کے بہانے سے آئے ہیں۔چونکہ یہود کی ریشہ دوانیوں کا آپ کو علم ہو چکا تھا، آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو واپس کر دیا جائے۔اس پر عبد اللہ بن ابی بن سلول جو منافقوں کا رئیس تھا وہ بھی اپنے تین سوساتھیوں کو لے کر یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ اب یہ لڑائی نہیں رہی یہ تو ہلاکت کے منہ میں جانا ہے۔کیونکہ خود اپنے مددگاروں کو لڑائی سے روکا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان صرف سات سورہ گئے جو تعداد میں کفار کی تعداد سے چوتھے حصے سے بھی کم تھے اور سامانوں کے لحاظ سے اور بھی کمزور۔کیونکہ کفار میں سات سو زرہ پوش تھا اور مسلمانوں میں صرف ایک سوزرہ پوش اور کفار میں دو سو گھوڑ سوار تھا مگر مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے تھے۔آخر آپ اُحد مقام پر پہنچے۔وہاں پہنچ کر آپ پر ہے نے ایک پہاڑی درے کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر کئے اور سپاہیوں کے افسر کو تاکید کی کہ یہ درہ اتنا ضروری ہے کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم نے اس جگہ سے نہیں ہلنا۔اس کے بعد آپ بقیہ ساڑھے چھ سو آدمی لے کر دشمن کے مقابلے کے لئے نکلے جواب دشمن کی تعداد سے قریباً پانچواں حصہ تھے۔لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے تھوڑی دیر میں ساڑھے چھ سو مسلمانوں کے مقابلہ میں تین ہزار مکہ کا تجربہ کار سپاہی سر پر پاؤں رکھ کر بھا گا۔اس سلسلہ میں ایک بڑی تفصیلی حدیث ہے وہ میں یہاں پڑھتا ہوں۔یباچه تفسیر القرآن (١٥١ - ١٥٢ حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جنگ احد میں عبداللہ بن