خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 172
172 $2003 خطبات مسرور رکھی جائے گی۔چنانچہ بڑی تیاری کے بعد تین ہزار سپاہیوں سے زیادہ تعداد کا ایک لشکر ابوسفیان کی قیادت میں مدینہ پر حملہ آور ہوا۔رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ آیا ہمیں شہر میں ٹھہر کر مقابلہ کرنا چاہئے یا باہر نکل کر۔آپ کا اپنا خیال یہی تھا کہ دشمن کو حملہ کرنے دیا جائے تا کہ جنگ کی ابتداء کا بھی وہی ذمہ دار ہو اور مسلمان اپنے گھروں میں بیٹھ کر اس کا مقابلہ آسانی سے کر سکیں۔لیکن وہ مسلمان جن کو بدر کی جنگ میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا تھا اور جن کے دلوں میں حسرت رہی تھی کہ کاش! ہم کو بھی خدا کی راہ میں شہید ہونے کا موقعہ ملتا۔انہوں نے اصرار کیا کہ ہمیں شہادت سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے۔چنانچہ آپ نے ان کی بات مان لی اور مشورہ لیتے وقت آپ نے اپنی خواب بھی سنائی۔فرمایا کہ خواب میں میں نے ایک گائے دیکھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ میری تلوار کا سراٹوٹ گیا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ گائے ذبح کی جارہی ہے۔اور پھر یہ کہ میں نے اپنا ہاتھ تو ایک مضبوط اور محفوظ زرہ کے اندر ڈالا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میں ایک مینڈھے کی پیٹھ پر سوار ہوں۔صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ان خوابوں کی کیا تعبیر فرمائی۔آپ نے فرمایا گائے کے ذبح ہونے کی تعبیر یہ ہے کہ میرے بعض صحابہ مشہید ہوں گے اور تلوار کا سراٹوٹنے سے مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ میرے عزیزوں میں سے کوئی اہم وجود شہید ہوگا یا شاید مجھے ہی اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے۔اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے کی تعبیر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارامد بینہ میں ٹھہر نازیادہ مناسب ہے۔اور مینڈھے پر سوار ہونے والے خواب کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ کفار کے لشکر کے سردار پر ہم غالب آئیں گے یعنی وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔گو اس خواب میں مسلمانوں پر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ ان کا مدینہ میں رہنا زیادہ اچھا ہے مگر چونکہ خواب کی تعبیر رسول کریم ﷺ کی اپنی تھی ، الہامی نہیں تھی۔آپ نے اکثریت کی رائے کو تسلیم کر لیا اور لڑائی کے لئے باہر جانے کا فیصلہ کر دیا۔جب آپ باہر نکلے تو نو جوانوں کو اپنے دلوں میں ندامت محسوس ہوئی اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! جو