خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 163
خطبات مسرور 163 فائدہ نہ ہو گا اس لئے اپنی اصلاح کے لئے بھی اسی طرح توجہ کرنی ہوگی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: $2003 "جو شخص اولا د کو یا والدین کو یا کسی اور چیز کو ایسا عزیز رکھے کہ ہر وقت انہیں کا فکر ر ہے تو وہ بھی ایک بت پرستی ہے۔فرمایا: اولا د چیز کیا ہے؟ بچپن سے ماں اس پر جان فدا کرتی ہے مگر بڑے ہو کر دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے لڑکے اپنی ماں کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس سے گستاخی سے پیش آتے ہیں۔پھر اگر فرمانبردار بھی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے وقت وہ اس کو ہٹا نہیں سکتے۔ذراسا پیٹ میں درد ہوتو تمام عاجز آ جاتے ہیں۔نہ بیٹا کام آسکتا ہے نہ باپ، نہ ماں، نہ کوئی اور عزیز۔اگر کام آتا ہے تو صرف خدا۔پس ان کی اس قدر محبت اور پیار سے فائدہ کیا جس سے شرک لازم آئے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُم فِشة (التغابن :۱۲) اولا داور مال انسان کے لئے فتنہ ہوتے ہیں۔دیکھو اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری گل اولاد جو مر چکی ہے زندہ کر دیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہوگا تو کیا اگر وہ عقلمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کا خیال بھی کرے گا ؟ پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خدا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے۔جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر بُرا مناتا ہے وہ بخیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جوخدا تعالیٰ نے اس کے سپر د کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریاؤں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔پس ایسا شخص جو خدا سے زیادہ کسی چیز کی محبت کرتا ہے اس کی عبادت نماز ، روزہ بھی کسی کام کے نہیں۔“ الحکم ۲۲ / اگست ۱۹۰۸ ، ملفوظات۔جلد پنجم - صفحه ٦٠٣،٦٠٢) اب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا جو اپنے صحابہ یا دوستوں کی اولاد کے لئے کی ان میں سے چند واقعات کا ذکر کروں گا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سمیع خدا نے کس طرح دعاؤں کو قبولیت بخشی۔لیکن جب آپ واقعات سنیں گے تو یہاں بھی آپ دیکھیں گے کہ آپ نے ایسے شخص کو جس کے لئے بھی دعا کی اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔اور اس کے ساتھ صاحب اقبال اولاد کی پیدائش کو مشروط کیا اور صحابہ اور رفقاء کے لئے بھی اولاد کی دعا کی اور نیک صالح، دیندار اولاد کی دعا اپنے خدا سے مانگی اور ان واقعات سے آپ دیکھیں گے کہ کس شان