خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 162

162 $2003 خطبات مسرور غرض ان سب کی غور و پرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور اُن کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کا لحاظ ہو کہ یہ اولا در ین کی خادم ہو۔لیکن کتنے ہیں جو اولاد کے واسطے یہ دعا کرتے ہیں کہ اولا ددین کی پہلوان ہو۔بہت ہی تھوڑے ہوں گے جو ایسا کرتے ہوں۔اکثر تو ایسے ہیں کہ وہ بالکل بے خبر ہیں کہ وہ کیوں اولاد کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور اکثر ہیں جو محض جانشین بنانے کے واسطے اور کوئی غرض ہوتی ہی نہیں،صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شریک یا غیر ان کی جائداد کا مالک نہ بن جاوے۔مگر یا درکھو کہ اس طرح پر دین بالکل برباد ہو جاتا ہے۔غرض اولاد کے واسطے صرف یہ خواہش ہو کہ وہ دین کی خادم ہو۔اسی طرح بیوی کرے تا کہ اس سے کثرت سے اولاد پیدا ہو اور وہ اولا ددین کی سچی خدمت گزار ہو اور نیز جذبات نفس سے محفوظ رہے۔اس کے سوا جس قدر خیالات ہیں وہ خراب ہیں۔رحم اور تقویٰ مدنظر ہو تو بعض باتیں جائز ہو جاتی ہیں۔اس صورت میں اگر مال بھی چھوڑتا ہے اور جائداد بھی اولاد کے واسطے چھوڑتا ہے تو ثواب ملتا ہے۔لیکن اگر صرف جانشین بنانے کا خیال ہے اور اس نیت سے سب ہم و غم رکھتا ہے تو پھر گناہ ہے۔“ سوم صفحه ٦٠٠،٥٩٩) (الحكم ١٠ مارچ ١٩٠٤، ملفوظات۔جلد۔پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیئات رکھنا جائز ہوگا۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعوی ہی ہوگا جب تک کہ وہ اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔“ (الحكم ٢٤ ستمبر ١٩٠١، ملفوظات جلد ١ صفحه ٥٦٠) اب اس طرف بھی توجہ دلائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہ اولاد کے لئے دعا بھی کریں کہ وہ نیک صالح ہو، لیکن پھر دعا کریں اور خود پوری طرح عمل نہ کر رہے ہوں تو بھی اس کا کوئی