خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 131
خطبات مسرور 131 $2003 پس آج جماعت احمدیہ کا یہ کام ہے کہ ایک مہم کی صورت میں دنیا کے سامنے اسلام کی امن اور آشتی کی جوحسین اور خوبصورت تعلیم ہے وہ پیش کریں۔اور دنیا کے سامنے کھولیں کہ اسلام تو انصاف اور امن کی تعلیم کا علمبر دار ہے۔جس کی مثال آج کے چودہ سو سال پہلے کے واقعات میں ملتی ہے۔وہ واقعہ جب بنو نضیر مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو ان میں سے وہ لوگ بھی تھے جو انصار کی اولاد تھے۔انصار نے ان کو روک لینا چاہا مگر آنحضر صلى الله ت نے اس تعلیم کے ماتحت کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ان کو اس سے منع فرمایا۔اور یہ انصار کی اولاد اس طرح یہودیوں کے پاس تھی کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی کے نرینہ اولاد یا لڑکا نہیں ہوتا تھا تو وہ منت مانا کرتے تھے کہ اگر میرا لڑکا ہوگا تو میں اسے یہودی بنادوں گا۔تو اس طرح لڑکے کی پیدائش پر اپنے بچے یہودیوں کے سپرد کر دیا کرتے تھے۔تو یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم کہ تم اپنے لخت جگر کو بھی جب ایک دفعہ کسی کو دے دیتے ہو اور جب وہ اسے اپنے مذہب پر قائم کر لیتا ہے تو پھر ز بر دستی اس کو بھی واپس نہیں لے سکتے۔پھر ایک ایسی مثال جو دنیا میں کہیں نظر نہیں آئے گی کہ صلح حدیبیہ کے وقت کیا ہوا۔جب قریش کی سخت اور کڑی شرطوں پر مسلمان اپنی ذلت محسوس کرنے لگے اور بعض نے ان شرطوں کو نہ ماننے کا اظہار بھی کیا۔لیکن آنحضرت ﷺ نے جو اس کامل یقین پر قائم تھے کہ فتح انشاء اللہ مسلمانوں کی ہے۔اور یہ اس سمیع و علیم خدا کا وعدہ ہے کہ فتح یقینا اے محمد سے تیری ہے۔اللہ تعالیٰ نے تیری دعاؤں کو سنا ہے اور ان کی قبولیت کا وقت قریب آرہا ہے ان تمام شرائط کو قبول کیا اور صحابہ کو بھی یتعلیم دی کہ اسلام کی فتح جنگوں سے نہیں بلکہ صلح صفائی اور خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوگی۔اس زمانہ میں بھی اب انشاء اللہ اس طرح ہوگا لیکن یہ بات مسلمانوں کو بھی جھنی چاہئے کہ اسلام کی فتح تو ضرور ہوگی لیکن زور بازو سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے احکامات پر عمل کرنے سے ہوگی ، جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم گمراہی کو چھوڑ کر ایمان لائے ہو تو گویا تم نے ایک مضبوط کڑے کو پکڑ لیا ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں لیکن صرف منہ سے کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات اور آنحضرت ﷺ کے حکموں کو مضبوط کڑے کی