خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 128
خطبات مس $2003 128 تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی لا إِكْرَاهَ فِي الذِيْنِ۔قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا۔وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيْمٌ (سورة البقره :۲۵۷)۔آج کل تمام مغربی دنیا اکٹھی ہو کر عالم اسلام پر یہ الزام لگا رہی ہے کہ اسلام تشدد کا مذ ہب ہے اور اس بنیادی تشدد کی تعلیم کی وجہ سے مسلمانوں میں جہادی تنظیمیں قائم ہیں۔یہ انتہائی جھوٹا اور گھناؤنا الزام اسلام کی تعلیم پر لگایا جا رہا ہے۔ہر احمدی اس سے بخوبی واقف ہے۔اسلام تو ا من، پیار، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دینے والا مذہب ہے اور جتنی انسانیت کے حقوق کا پاس اسلامی تعلیمات میں ملتا ہے اس کی مثال، اس کی نظیر اور کسی تعلیم میں نہیں ہے۔لیکن یہ بھی ساتھ میں ، بدقسمتی ، کہوں گا کہ بعض تشدد پسند گروہوں نے جن کا اسلامی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں اپنی انا کی تسکین کے لئے ، اپنی ذات کو ابھار کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے اسلام کی تعلیم کو اس طرح جہادی تنظیموں کے تصور کے ساتھ منسلک کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس کی وجہ سے اسلام کی جو خو بصورت تعلیم تھی اس کا ایک بڑا بھیانک تصور قائم ہو جاتا ہے۔اور یہ کوئی اسلام کی خدمت نہیں ہے بلکہ اسلام کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ابھی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعا لی فرماتا ہے۔ترجمہ یہ ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔یقین ہدایت گمراہی سے کھل کر نمایاں ہو چکی۔پس جو کوئی شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو یقینا اس نے ایک ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جس کا ٹو نا ممکن نہیں۔اور اللہ بہت سنے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔