خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 106
$2003 106 خطبات مسرور تجھ پر سلام۔تو مبارک کیا گیا۔خدا نے دعاسن لی۔وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔(تذکره صفحه ٩٦) فرماتے ہیں: مجھے بارہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ ”جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا“۔(الحكم جلد ۸ نمبر ١٧ - مورخه ٢٤ مئی ١٩٠٤ ء صفحه ٤ ـ تذکره صفحه ٥١٥ مطبوعه 1969ء) پھر الہام ہے: "قَدْ سَمِعَ اللَّهُ اُجِيْبَتْ دَعْوَتُكَ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُون تذکره صفحه ۶۷۳ ایڈیشن ۱۹۶۹)۔اللہ تعالیٰ نے تیری دعا سن لی۔تیری دعا قبول کی گئی۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مقبول دعاؤں کی توفیق دے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مشن کو آگے بڑھانے والے ہوں۔اور سب سے بڑھ کر جو دعا ہماری ہونی چاہئے وہ غلبہ اسلام کے لئے کہ اللہ تعالیٰ جلد دنیا پر آنحضرت ﷺ کا جھنڈا لہرائے۔آخر پر ایک اور تھوڑی سی بات کرنا چاہتا ہوں۔ایڈیشنل وکیل المال صاحب نے توجہ دلائی کہ یہ مہینہ مالی سال کا آخری مہینہ ہے تو اس میں چندہ عام اور چندہ جلسہ سالانہ کی طرف احباب کو توجہ دلائی جائے۔مجموعی طور پر تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی ایسی فکر کی بات نہیں۔جہاں ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے سلوک کیا ہے وہ آئندہ بھی انشاء اللہ ہم سے وہی سلوک کرے گا اور خود ہمارا کفیل ہوگا۔اور ہماری ہر ضرورت کو پورا کرنے والا ہوگا۔اس بارہ میں تو ذرہ بھی کوئی شک نہیں۔لیکن بعض انفرادی لوگوں کو توجہ دلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔اس ضمن میں یہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی تین صورتیں ہوتی ہیں کہ شروع میں بعض لوگ تشخیص صحیح نہیں کرواتے۔کس وجہ سے؟ وہ بہتر جانتے ہیں۔کسی پر میں بدظنی نہیں کرتا۔اس صورت میں ان سے درخواست ہے کہ وہ اب اس سال کے آخری مہینہ میں بھی اپنی صحیح آمد کے مطابق اپنا بجٹ بنوائیں۔دوسرے صحیح بجٹ تو بنواتے ہیں لیکن بعض حالات ایسے آگئے کسی ایسے کراکس میں آگئے کہ چندوں کی ادائیگی نہیں کر سکے اور باوجود بہت کوشش کے، نیک نیتی کے، بہت مشکل میں گرفتار ہیں۔تو ایسے لوگوں سے درخواست ہے کہ جیسا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے