خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 105
خطبات مسرور 105 اور ان کی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی لمبی عمر ہوئی بعد میں۔$2003 پھر آپ فرماتے ہیں کہ ” شیخ مہر علی ہوشیار پوری کی نسبت پیشگوئی۔یعنی خواب میں میں نے دیکھا کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور پھر میں نے اس کو بجھایا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر میری دعا سے رہائی ہوگی۔یہ تمام پیشگوئی میں نے خط لکھ کر شیخ مہر علی کو اس سے اطلاع دی۔بعد ا سکے پیشگوئی کے مطابق اس پر قید کی مصیبت آئی اور پھر قید کے بعد پیشگوئی کے دوسرے حصہ کے مطابق اس نے رہائی پائی۔(حقيقة الوحى، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۳) پھر آپ فرماتے ہیں کہ سردار خان برا در حکیم شاہ نواز خان جو ساکن راولپنڈی ہیں میری طرف لکھتے ہیں کہ ایک مقدمہ میں ان کے بھائی شاہ نواز خان کی مع ایک فریق مخالف کے عدالت میں ضمانت لی گئی تھی جس میں حضرت صاحب سے یعنی مجھ سے بعد اپیل دعا کرائی گئی تھی۔اور ہر دو فریق نے اپیل کیا تھا۔چنانچہ دعا کی برکت سے شاہ نواز کا اپیل منظور ہو گیا اور فریق ثانی کی اپیل خارج ہوگئی۔قانون دان لوگ کہتے تھے کہ اپیل کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ بالمقابل ضمانتیں ہیں۔یہ دعا کا اثر تھا کہ دشمن کی ضمانت قائم رہی اور شاہنواز ضمانت سے بری کیا گیا۔(حقيقة الوحى - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۳۳۷ پھر آپ اپنے ایک بیٹے کے بارہ میں قبولیت دعا کے ضمن میں فرماتے ہیں: بشیر احمد میرا لڑکا آنکھوں کی بیماری سے ایسا بیمار ہو گیا تھا کہ کوئی دوا فائدہ نہیں کر سکتی تھی اور بینائی جاتے رہنے کا اندیشہ تھا۔جب شدت مرض انتہا تک پہنچ گئی تب میں نے دعا کی تو الہام ہوا بَرَّقَ طِفْلِى بَشِير “ یعنی میرالڑ کا بشیر دیکھنے لگا۔تب اسی دن یا دوسرے دن وہ شفایاب ہو گیا۔یہ واقعہ بھی قریباً سو آدمی کو معلوم ہوگا۔پھر آپ کے کچھ الہامات ہیں : (حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ٢٤٠ ۱۸۸۳ء کا ایک ہے۔سَلَامٌ عَلَيْكَ جُعِلْتَ مُبَارَكًا سَمِعَ اللَّهُ إِنَّهُ سَمِيْعُ الدُّعَاءِ“۔براهين احمدیه هر چهار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ٦٢٠ )