خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 7

خطبات مسرور 7 ہیں دور کر دے اور اپنی رضا مندی کی راہ دکھلائے“۔$2003 البدر ٢٤/ اگست ١٩٠٤ ، ملفوظات جلد چهارم صفحه (۳۰ آپ فرماتے ہیں:۔ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ نبی کریم صیدہ برحق رسول تھے اور خدا کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے“۔( البدر ۱۳/ اپریل، ملفوظات جلد چهارم صفحه (٢٦١ پھر آپ نے فرمایا: ”جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان کو سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔دعا ایسی چیز ہے کہ خشک لکڑی کو بھی سرسبز کر سکتی ہے اور مردہ کو زندہ کرسکتی ہے۔اس میں بڑی تأثیریں ہیں“۔(الحكم ۲۸ فروری ۱۹۰۳ ، ملفوظات جلد ۳ صفحه (۱۰۰) اللہ تعالیٰ اس دور میں بھی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تمام دعاؤں کا وارث بنائے جو آپ نے اپنے ماننے والوں کے لئے کیں۔اور سب سے بڑھ کر ان دعاؤں سے بھی حصہ دے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے لئے کیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے پیاروں کی دعاؤں کا وارث بنایا ہے جس کے نظارے ہم روز کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کی وفات نے ہماری کمریں تو ڑ کر رکھ دیں تھیں۔اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کے طفیل ہی اپنے وعدہ کو پورا فرمایا۔چنانچہ فرماتا ہے:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے (سورة النور: (٥٦)