خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 6
$2003 6 خطبات مسرور الجوع میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔نونِ ثقیلہ سے جو اظہار تاکید کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ قضائے مبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج ﴿ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ﴾ ہی ہے۔اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے، وہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ﴾ میں ظاہر کیا ہے۔الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بھی اللہ تعالی اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی وہ مان لیتا ہے۔یہ معاملہ گویا دوستانہ معاملہ ہے۔ہمارے نبی کریم ﷺ کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعاؤں کی ہے اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔چنانچہ آپ کے گیارہ بچے مر گئے مگر آپ نے کبھی سوال نہ کیا کہ کیوں؟ (الحکم ۲۸ فروری ۱۹۰۲، ملفوظات جلد دوم صفحه ١٦٧-١٦٨) پھر فرمایا: ”خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے“ (البدر ۳/اپریل ۱۹۰۳ ، ملفوظات جلد ۳ صفحه (۱۷۲ فرماتے ہیں: ”اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ خیریت سے رہو اور تمہارے گھروں میں امن رہے تو مناسب ہے کہ دعائیں بہت کرو اور اپنے گھروں کو دعاؤں سے پر کرو۔جس گھر میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے خدا تعالیٰ اسے برباد نہیں کیا کرتا۔البدر ٢٤/ اپریل ۱۹۰۳ ، ملفوظات جلد ۳ صفحه (۲۳۲ فرمایا: ” میں ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہتا ہوں اور سب سے مقدم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو ہموم اور غموم سے محفوظ رکھے۔کیونکہ مجھے تو ان کے ہی افکار اور رنج غم میں ڈالتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مجموعی ہیئت سے کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو کوئی رنج اور تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو نجات دے۔ساری سرگرمی اور پورا جوش یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کروں“۔(رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ مرتبه شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب صفحه ۱۳۰ تا ١٦٧ ، ملفوظات جلد اوّل صفحه (٦٦) اللہ تعالیٰ مجھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کا درد مجھے اپنے درد سے بڑھ کر ہو جائے۔اللہ میری مدد فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔”سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گنا ہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیٹر ا بن جاتا ہے۔ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے