خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 98

$2003 98 خطبات مسرور ڈھانچہ بناتا ہے۔روح اُس میں خدا تعالیٰ ڈالتا ہے۔اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ڈھانچہ تو میں نے اور اسمعیل نے بنادیا ہے۔مگر ہمارے بنانے سے کیا بنتا ہے۔کئی مسجدیں ایسی ہیں جو بادشاہوں اور شہزادوں نے بنائیں مگر آج وہ ویران پڑی ہیں۔اس لئے کہ انسان نے تو مسجدیں بنا ئیں مگر خدا نے انہیں قبول نہ کیا۔پس حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کہتے ہیں کہ اے خدا! ہم نے تیرا گھر بنایا ہے اسے تو قبول فرما۔اور تو سچ سچ اس میں رہ پڑ۔اور جب خدا کسی جگہ بس جائے تو وہ کیسے اُجڑ سکتا ہے!۔گاؤں اُجڑ جائیں تو اُجڑ جا ئیں شہر اُجڑ جائیں تو اُجڑ جائیں۔مگر وہ مقام کبھی اُجڑ نہیں سکتا جس جگہ خدائس گیا ہو۔جانتا ہے۔(تفسیر کبیر۔جلد نمبر ۲ صفحه ۱۸۱) حضرت خلیفہ مسیح الا وال اس ضمن میں فرماتے ہیں: السَّمِيعُ الْعَلِيم : دعائیں سنتا ہوں۔دلوں کے بھیدوں ،ضرورتوں،اخلاص کو (حقائق الفرقان جلد ۱ صفحه ۲۲۸ مطبوعه ربوه ) حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ ایک دعا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جناب رب العزت اور رب العالمین اللہ جل شانہ کے حضور مانگی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس دنیا میں اسلام کے آنے اور اس کے ثمرات کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت ابراہیم کے ذریعہ ایک دعا کی تقریب پیدا کر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تو ہمارا رب اور مربی اور محسن ہے۔تیری عالمگیر ربوبیت سے جیسے جسم کے قومی کی پرورش ہوتی ہے۔عمدہ اور اعلیٰ اخلاق سے انسان مزین ہوتا ہے ویسے ہی ہمارے روح کی بھی پرورش فرما اور اعتقادات کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا۔اے اللہ! اپنی ربوبیت کے شان سے ایک رسول ان میں بھیجیئو جو کہ مِنْهُم یعنی انہی میں سے ہواور اس کا کام یہ ہو کہ وہ صرف تیری ( اپنی نہیں) باتیں پڑھے، اور پڑھائے اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو سمجھا اور سکھلا بھی دے۔پھر اس پر بس نہ کیجیئو بلکہ ایسی طاقت ، جذب اور کشش بھی اسے دیجیئو جس سے لوگ اس تعلیم پر کار بند ہو کر مز کی اور مطہر بن جاویں۔تیرے نام کی اس سے عزت ہوتی ہے کیونکہ تو عزیز ہے اور تیری باتیں حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔اس دعا کی قبولیت کس طرح سے ہوئی وہ تم