خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 77

خطبات مسرور جلد 13 77 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء کا افراد جماعت پر بھی نیک اثر پڑتا ہے۔کئی لوگ مجھے اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں کہ درس سن کے ہمارے دینی علم میں اضافہ ہوا۔فلاں عمل کو ہمیں صحیح طور پر کرنے کا طریق پتا چلا۔ہماری سستیاں دُور ہوئیں۔لیکن اگر اس بات کو لے کر عہدیدار بھی اور جو بھی دوسرے ذمہ دار ہیں بیٹھے رہیں کہ ہم نے اپنے درس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس سنا دیا۔یا لوگ خلیفہ وقت کا خطبہ سن لیتے ہیں اس لئے بار بار ذاتی طور پر بھی اور مختلف مجالس میں بھی ان باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، یاد دہانی کرانے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ غلط ہیں۔چاہے اس نیت سے بھی نصیحت سے رکیں کہ اگر خلیفہ وقت کی نصیحت کا اثر نہیں ہوا تو ہماری نصیحت کا کیا اثر ہو گا تب بھی غلط ہے۔یاد رہبانی بہر حال ضروری ہے۔پہلی بات تو یہ کہ بعض باتیں بعض لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آتیں۔میں خود بھی کوشش کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے الفاظ کو اپنے الفاظ میں بھی آسان رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کروں۔لیکن پھر بھی میں نے جائزہ لیا ہے بعض لوگ کہتے ہیں ہمیں سمجھ نہیں آئی۔یا جو وہ سمجھے وہ صحیح نہیں تھا۔اس لئے اگر وقتا فوقتاً آسان انداز میں ہلکے پھلکے طور پر مجالس میں سمجھایا جاتا رہے تو کم استعداد والوں کو بھی سمجھ آ جاتی ہے۔مساجد میں حاضری کیلئے کوشش کا ایک طریق پس سہاروں کی بہر حال ضرورت پڑتی ہے اور ذمہ دار لوگوں کا یہ کام ہے کہ کمزوروں کا سہارا بنیں۔بعض لوگ تو خود بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے خطبہ دو مرتبہ یا تین مرتبہ سنا تو ہمیں مضمون سمجھ آیا۔لیکن ہر ایک خود توجہ نہیں دیتا۔اس لئے وہ لوگ جنہوں نے دین کی خدمت کے لئے وقف کیا ہے اور وہ لوگ جن پر یہ ذمہ داری ہے کہ کمزوروں کا سہارا بننے کی کوشش کریں ان کو بہر حال اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ابھی نماز با جماعت کی بات ہوئی ہے کہ مردوں پر فرض ہے۔اکثر میں اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔اس میں بھی اگر با قاعدہ آنے والے سہارا بننے کی کوشش کریں تو بہتری آسکتی ہے۔ضروری نہیں کہ عہد یدار ہی ہوں، عام آدمی بھی سہارا بن سکتا ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک دفعہ فرمایا کہ ایک دن میں عشاء کی نماز پر مسجد میں آیا تو میں نے دیکھا کہ صرف دو صفیں تھیں۔قادیان کی بات ہے۔تو میں نے کہا کہ لوگ نماز پر آتے ہوئے ہمسایوں کو بھی ساتھ لے آیا کریں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اگلے دن تعداد بڑھنی شروع ہوگئی۔اب جو نئے آنے والے تھے ان کو پتا ہے کہ نماز ضروری ہے۔یہ تو ہر ایک کو پتا ہے فرائض میں داخل ہے۔لیکن اس استعداد کی کمی تھی کہ اس اہمیت کو یا د رکھ سکیں یاستی نے استعدادوں کو کم کر دیا تھا۔تو