خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 769
خطبات مسرور جلد 13 769 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء پہنچ سکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ترقی کے شروع ہونے پر ست ہو جاتے ہیں۔یہ غور کرنے والی اصل چیز ہے۔) اور سمجھتے ہیں کہ اب جماعت بہت ہو گئی۔ایسے لوگوں کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کے لئے جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان پہنچنا ممکن ہے اگر یہاں آنے میں کو تا ہی کرتا ہے تو اس کا لازمی اثر اس کے ہمسایوں اور اس کی اولاد پر پڑے گا۔میں نے دیکھا ہے کہ جو دوست سال بھر میں ایک دفعہ بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان آ جاتے ہیں اور اپنے اہل وعیال کو ہمراہ لاتے ہیں ان کی اولادوں میں احمدیت قائم رہتی ہے اور گوان بچوں کو احمدیت کی تعلیم سے ابھی واقفیت نہیں ہوتی مگر وہ اپنے والدین سے یہ ضرور کہتے رہتے ہیں کہ ابا ہمیں قادیان کی سیر کے لئے لے چلو۔اس طرح بچپن میں ہی ان کے قلوب میں احمدیت گھر کرنا شروع کر دیتی ہے اور آخر بڑے ہو کر وہ اپنی احمدیت کا شاندار نمونہ پیش کرنے پر قادر ہو جاتے ہیں۔پھر بچوں کے ذہن کے لحاظ سے بھی جلسہ سالانہ کا اجتماع ان پر بڑا اثر کرتا ہے۔بچہ ہمیشہ غیر معمولی چیزوں اور ہجوم سے متاثر ہوتا ہے اور جلسہ سالانہ پر آ کر وہ نہ صرف ایک مذہبی مظاہرہ دیکھتا ہے بلکہ اپنی طبیعت کی جدت پسندی کے لحاظ سے بھی تسلی پاتا ہے اور یہ اجتماع اس کے لئے دلچسپ اور یا درکھنے والا نظارہ بن جاتا ہے۔(اب جو قادیان جاسکتے ہیں، afford کر سکتے ہیں، ان کو تو جانا چاہئے۔لیکن جو اپنے ملکی جلسے ہیں ان میں بھی ضرور شامل ہونا چاہئے۔فرمایا کہ غرض جو باپ جلسے پر آتے ہیں وہ اپنی اولاد کے دل میں بھی یہاں آنے کی تحریک پیدا کر دیتے ہیں اور کبھی نہ کبھی ان کے بچے کا اصرار بچے کو جلسہ سالانہ پر لانے کا محرک ہو جاتا ہے جس کے بعد دوسرا قدم وہ اٹھتا ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔پس ان ایام میں قادیان آنا کسی ایسے بہانے یا عذر کی وجہ سے ترک کر دینا جسے توڑا جاسکتا ہو یا جس کا علاج کیا جا سکتا ہو صرف ایک حکم کی نافرمانی ہی نہیں بلکہ اپنی اولاد پر بھی ظلم ہے۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو حکم ہے کہ جلسے پر آؤ۔وہ صرف اس کی نافرمانی نہیں کر رہے بلکہ اپنی اولاد پر بھی ظلم کر رہے ہوں گے۔ہندوستان کے احمد یوں کو خاص طور پر کوشش کر کے قادیان آنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ ) حقیقت تو یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا کہ ہماری جماعت میں ابھی مالدار لوگ داخل نہیں ہوئے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جلدی سے جانے کے لئے جو وسائل سفر ہیں وہ اتنا خرچ چاہتے ہیں کہ بیرونی ممالک کے احمدیوں کے لئے ان ایام میں قادیان پہنچنا مشکل ہے۔لیکن اگر کسی زمانے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے مالدار ہماری