خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 768
خطبات مسرور جلد 13 768 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء پس اس کے لئے کم از کم قادیان میں اور جہاں جہاں دوسری جماعتیں بھی یہ کر سکتی ہیں وہاں رہائش کے لئے عارضی اور مستقل انتظام کرتے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الہام وَسَعْ مَكَانَگ کے تحت قادیان میں اپنی مکانیت میں بھی اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی وسعت پیدا ہو رہی ہے اور نئے نئے گیسٹ ہاؤس اور جگہیں بن گئی ہیں اور مہمانوں کو جس حد تک سہولت ہو سکتی ہے مہیا کی جاتی ہے لیکن بہر حال گھر والی سہولت تو نہیں۔اس لئے مہمانوں کو بھی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جتنی سہولت دی گئی ہے اس کے اندر رہتے ہوئے ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جلسے پر آنے کا جو اصل مقصد ہے اس کو پورا کریں اور صرف مہمان نوازی یا ر ہائش کی سہولتوں کی طرف نہ دیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اور الہام اور خواہش کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خواہش ظاہر فرمائی کہ جماعت کے وہ تمام دوست جن کا جلسے پر آنا ممکن ہو وہ جمع ہوا کریں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سننے یا سنانے میں شامل ہوا کریں جوان دنوں یہاں کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ ابھی تک ہمارے ملک میں وسائل سفر اتنے آسان نہیں جتنے کے یورپ میں آسان ہیں اور ہندوستان کے باہر تو کئی ممالک میں ان وسائل میں اور بھی کمی ہے جیسے کہ افغانستان ہے یا ایران ہے یا ہندوستان کے باہر کے جزائر ہیں۔پھر ابھی تک ہماری جماعت میں ایسے لوگ شامل نہیں جو مالدار ہوں۔(اُس زمانے کا ذکر کر رہے ہیں۔ابھی بھی بہت زیادہ مالدار تو نہیں لیکن بہر حال اچھے صاحب حیثیت لوگ شامل ہوتے جا رہے ہیں۔جو دور دراز ممالک سے جبکہ ہوائی جہازوں کی آمد ورفت نے سفر کو بہت حد تک آسان کر دیا ہے جلسہ سالانہ کے ایام میں قادیان پہنچ سکیں۔لیکن اگر ایسے لوگ ہماری جماعت میں شامل ہوں۔( یہ حضرت مصلح موعود اپنے زمانے کا ذکر کر رہے ہیں ) تو ان دُور دراز ممالک کے لوگوں کے لئے بھی جہاں ہر قسم کے وسائل سفر آسانی سے میسر آ سکتے ہیں یہاں پہنچنا کوئی مشکل نہیں رہتا اور زیادہ سے زیادہ ان کے لئے روپیہ کا سوال رہ جاتا ہے مگر ایسے لوگ ابھی ہماری جماعت میں بہت کم ہیں یا حقیقتا بالکل نہیں۔آج جب ہم دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سارے ย ممالک میں سے لوگ وہاں قادیان پہنچتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کا بیشتر حصہ اس وقت ہندوستان میں ہے (اور اب پاکستان اور ہندوستان ملا کے ) اور اس میں سے بھی زیادہ تر مردوں کی ایک تعداد ہے جو جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان