خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 765 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 765

خطبات مسرور جلد 13 765 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء آپ علیہ السلام کی زندگی کا آخری سال تھا اور کل سات سو آدمی جلسے پر آیا اور انتظام اتنا خراب ہوا۔گل سات سو آدمی مہمان تھا اور انتظام میں خرابی پیدا ہو گئی ) کہ ( بعضوں کو ) رات کے تین بجے تک کھانا نہ مل سکا۔اور آپ کو الہام ہوا کہ يَايُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَر۔کہ اے نبی بھوکے اور پریشان حال کو کھانا کھلاؤ۔چنانچہ صبح معلوم ہوا کہ مہمان تین بجے رات تک لنگر خانے کے سامنے کھڑے رہے اور ان کو کھانا نہیں ملا۔پھر آپ نے نئے سرے سے فرمایا کہ دیگیں چڑھاؤ اور ان کو کھانا کھلاؤ۔تو دیکھو سات سو آدمیوں کی یہ حالت ہوئی مگر ان سات سو آدمیوں کا یہ حال تھا کہ جب آپ علیہ السلام سیر کے لئے نکلتے تو سات سو آدمی ساتھ تھا۔ہجوم بہت تھا۔آنے والے بیچاروں نے کبھی یہ نظارہ تو دیکھا نہ تھا۔باہر تو دوسو آدمی بھی لوگوں کو کسی روحانی بزرگ کے گرد جا تا ہوا نظر نہ آتا تھا۔میلوں میں بیشک جاتے ہوں گے لیکن روحانی نظاروں میں نہیں جاتے۔(فرماتے ہیں کہ ) اس لئے ان کے لئے عجیب چیز تھی۔یہ لوگ دھکے کھا رہے تھے۔حضرت صاحب ایک قدم چلتے تو ٹھو کر کھا کر آپ کے پیر سے جوتی نکل جاتی۔(لوگوں کا اثر دہام تھا) پھر کوئی احمدی ٹھہرا لیتا کہ حضور جوتی پہن لیجئے اور آپ علیہ السلام کے پیر میں جوتی ڈال دیتا۔پھر آپ چلتے تو پھر کسی کا ٹھنڈ الگتا اور جوتی پرے جا پڑتی۔پھر وہ کہتا حضور ٹھہر جائیں جوتی پہنا دوں تو اس طرح ہو رہا تھا۔اس وقت سیر پہ جاتے ہوئے یہ حالت تھی۔لوگ ساتھ تھے۔ایک زمیندار دوست نے ( جو مخلص احمدی تھا ) دوسرے زمیندار دوست سے جو احمدی تھا پنجابی میں کہا کہ اوتوں مسیح موعود دا دست پنجہ لے لیا۔یعنی کیا تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کر لیا ہے؟ وہ کہنے لگا ”ایتھے دست پنجہ لین دا کیہڑ اویلا اے۔نیڑے کوئی نئیں ہون دیندا۔یعنی اتنے لوگ ہیں کہ نزدیک بھی کوئی نہیں آنے دیتا مصافحہ کرنے کا موقع ہی کوئی نہیں یہاں تو کوئی قریب بھی نہیں آنے دیتا۔اس پر وہ جو عاشق زمیندار تھا وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگا کہ تجھے یہ موقع پھر کب نصیب ہوگا۔بیشک تیرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں پھر بھی لوگوں کے درمیان میں سے گزر جا اور مصافحہ کر آ۔تو کجا وہ وقت ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور کجا یہ وقت ہے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں لوگ ہیں۔(ماخوذ ازالفضل 17 مارچ 1957 صفحہ 4-3 جلد 46/11 نمبر 66)