خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 764
خطبات مسرور جلد 13 764 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء کبھی حضرت صاحب خود مجھے اٹھا لیتے۔اس وقت نہ تو مہمان تھا اور نہ یہ مکان تھے۔کوئی ترقی نہ تھی مگر ایک رنگ میں یہ بھی ترقی کا زمانہ تھا۔(اس زمانے میں ایسی ترقی کوئی نہیں تھی لیکن وہ بھی ترقی کا زمانہ تھا) چونکہ اس وقت حافظ حامد علی صاحب آچکے تھے۔اس سے بھی پہلے جبکہ قادیان میں کبھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی شخص نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا کہ تیرے پاس دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور دُور دُور سے تحائف لائے جائیں گے۔اس وقت کی حالت کا اندازہ لگاتے ہوئے خدا تعالیٰ کے اس وعدے کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اے وہ شخص جس کو کہ اس کے محلے کے لوگ بھی نہیں جانتے ،جس کو کہ اس کے شہر سے باہر دوسرے شہروں کے انسان نہیں جانتے ، جس کی گمنامی کی حالت سے لوگوں کو یہی خیال تھا کہ مرزا غلام قادر صاحب ہی اپنے باپ کے بیٹے ہیں ( یعنی صرف ایک بیٹا ہے ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ( میں تجھے یعنی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو ) میں تجھ جیسے شخص کو عزت دوں گا۔دنیا میں مشہور کروں گا۔عزت چل کر پاس آئے گی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 10 صفحہ 246-247) یہ غور کرنے والی بات ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) ”میں نے حضرت مسیح موعود سے خودسنا آپ فرماتے تھے کہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کافر بھی رحمت ہوتے ہیں۔اگر ابو جہل نہ ہوتا تو اتنا قرآن کہاں اترتا۔اگر سارے حضرت ابو بکر ہی ہوتے تو صرف لا اله الا اللہ ہی نازل ہوتا۔(خطبات محمود جلد 10 صفحہ 299) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو ہر چیز میں بھلائی نظر آتی ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت ہوئی تو اس وقت آپ کو نظر آ رہا تھا کہ اب عزت اور زیادہ بڑھے گی اور بڑھتی چلی جائے گی اور آج ہم بھی قادیان کے یہ نظارے دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ہیں پچھیں ملکوں سے وہاں لوگ پہنچے ہوئے ہیں اور نئی سے نئی عمارتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بن رہی ہیں۔پھر جلسہ سالانہ کی مہمان نوازی کے حوالے سے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود وہی آخری جلسے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں کل سات سو آدمی تھے۔اب ایک ایک بلاک میں کئی کئی ہزار بیٹھا ہے۔( جلسے کے وقت آپ فرما رہے ہیں کہ کئی کئی ہزار لوگ ایک بلاک میں بیٹھے ہیں لیکن اُس وقت کل سات سو آدمی تھے۔) اس وقت