خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 759
خطبات مسرور جلد 13 759 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء جلسوں کے سیج تو اور بھی بڑے ہوتے ہیں۔) کہتے ہیں میں نہیں کہہ سکتا کیوں؟ مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ دری تین جگہ بدلی گئی۔ایک جگہ سے اٹھائی، پھر دوسری جگہ سے، اور پھر تیسری جگہ سے۔پہلے ایک جگہ بچھائی گئی۔تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اٹھا کر اسے کچھ دُور بچھایا گیا۔تھوڑی دیر بعد وہاں سے تبدیل کر کے ایک اور جگہ بچھایا گیا۔اور پھر تیسری جگہ اس جگہ سے بھی اٹھا کر کچھ اور دور وہ بچھائی گئی۔کہتے ہیں کہ اپنے بچپن کی عمر کے لحاظ سے میں نہیں کہہ سکتا کہ آیا ان جمع ہونے والوں کو لوگ روکتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہارا حق نہیں کہ اس جگہ دری بچھا دیا کوئی اور وجہ تھی۔بہر حال مجھے یاد ہے کہ دو تین دفعہ اس دری کی جگہ بدلی گئی۔(ماخوذ از جماعت احمدیہ کی عظیم الشان ترقی آستانہ رب العزت پر گریہ و بکا کرنے کا نتیجہ ہے۔۔۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 321 تا323) آج جو لوگ قادیان میں اس وقت جلسے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں وہ شاید اس وقت کی حالت کا اندازہ نہ کر سکتے ہوں۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک وسیع جلسہ گاہ میسر ہے جس کو پکی چار دیواری سے گھیرا گیا ہے اور اس میں بھی کوشش یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا ہوں۔1936ء میں جب حضرت مصلح موعود یہ فرمارہے ہیں اس کے بعد پارٹیشن تک مزید وسیع انتظام ہوتے گئے۔قادیان پر بعد میں پارٹیشن کے وقت ایسا دور بھی آیا جب صرف دار مسیح اور اردگرد کے چند گھروں تک احمدی محدود ہو گئے بلکہ چند سو کےسواسب کو ہجرت کرنی پڑی اور یہ جو چند ایک احمدی تھے وہ بھی بڑے کمزور تھے۔لیکن آج پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں وسعت پیدا ہو رہی ہے اور وہاں جانے والے جو پہلی دفعہ گئے ہوں گے، نئی نسلیں ہیں، نوجوان ہیں یا باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں، اب صرف اس وسعت کو دیکھ رہے ہوں گے۔لیکن تاریخ کے دریچے میں سے جھانک کر ہم دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش نظر آتی ہے۔آج ربوہ کے رہنے والے بھی ان دنوں بے چین ہوں گے تو انہیں بھی یادرکھنا چاہئے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔انشاء اللہ تعالیٰ وہاں بھی حالات بدلیں گے اور رونقیں بھی قائم ہوں گی لیکن ربوہ کے رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہوگی۔پاکستان میں رہنے والوں کو دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہوگی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ (آل عمران: 140) اور کمزوری نہ دکھاؤ اور غم نہ کرو۔یقینا تم ہی غالب آنے والے ہو جبکہ تم مومن ہو۔شرط یہ لگائی جبکہ تم مومن ہو۔پس ایمان میں زیادتی اور دعاؤں پر زور سے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر کے حالات بدلتے ہیں۔حضرت مصلح موعود اس بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو وہاں جمع تھے ( جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھایا جاتا تھا) اس نیت اور اس ارادے سے کہ اسلام دنیا میں نہایت ہی کمزور حالت میں