خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 758
خطبات مسرور جلد 13 758 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء سے حضرت مصلح موعودؓ کے بعض حوالے پیش کرتا ہوں۔ابتدائی جلسوں میں سے ایک کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مصلح موعود اپنے بچپن کا تاثر اور جماعت کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یہ 1936 ء کی بات ہے جب آپ فرما رہے ہیں کہ قریباً چالیس سال پہلے اس جگہ پر جہاں اب مدرسہ احمدیہ کے لڑکے پڑھتے ہیں ( قادیان میں جو جگہ ہے ) ایک ٹوٹی پھوٹی فصیل ہوا کرتی تھی۔ایک فصیل تھی جس نے پورے قادیان کی آبادی کوگھیرا ہوا تھا۔کہتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں قادیان کی حفاظت کے لئے وہ کچی فصیل بنی ہوئی تھی۔وہ خاصی چوڑی تھی اور ایک گڑا اس پر چل سکتا تھا (یعنی بیل گاڑی)۔پھر انگریزی حکومت نے جب اسے تڑوا کر نیلام کر دیا تو اس کا کچھ ٹکڑا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مہمان خانہ بنانے کی نیت سے لے لیا۔وہ ایک زمین لمبی سی چلی جاتی تھی۔ایک لمبائکڑا پلاٹ تھا۔کہتے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت 93 ء تھا یا 94ء یا 95 ، قریباً اسی قسم کا زمانہ تھا۔یہی دسمبر کے دن تھے۔یہی موسم تھا ، یہی مہینہ تھا کچھ لوگ جو ابھی احمدی نہیں کہلاتے تھے کیونکہ ابھی احمدی نام سے جماعت یاد نہیں کی جاتی تھی۔احمدی نام جو ہے یہ 1901ء میں رکھا گیا۔اس سے پہلے احمدی کی باقاعدہ ایک نشانی نہیں تھی۔احمدی کہلاتے تو نہیں تھے مگر یہی مقاصد اور یہی مدعا لے کر وہ قادیان میں جمع ہوئے۔کہتے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا آیا وہ ساری کارروائی اسی جگہ ہوئی یا کارروائی کا بعض حصہ اس جگہ ہوا ( جہاں ذکر فرمارہے ہیں ) اور بعض مسجد میں ہوا کیونکہ میری ( حضرت مصلح موعودؓ کی ) عمر اس وقت سات آٹھ سال کی ہوگی۔اس لئے میں زیادہ تفصیلی طور پر اس بات کو یاد نہیں رکھ سکا۔میں اس وقت اس اجتماع کی اہمیت کو نہیں سمجھتا تھا۔مجھے اتنا یاد ہے کہ میں وہاں جمع ہونے والے لوگوں کے ارد گرد دوڑتا اور کھیلتا پھرتا تھا۔میرے لئے اس زمانے کے لحاظ سے یہ اچھنبے کی بات تھی کہ کچھ لوگ جمع ہیں۔اس فصیل پر ایک دری بچھی ہوئی تھی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے تھے اور اردگر د دوست تھے جو جلسہ سالانہ کے اجتماع کے نام سے جمع تھے۔( کہتے ہیں) ممکن ہے میرا حافظہ غلطی کرتا ہواور دری ایک نہ ہو، دو ہوں لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک ہی دری تھی۔اس ایک دری پر کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ڈیڑھ سو ہوں گے یا دوسو اور بچے ملا کر ان کی فہرست اڑھائی سو کی تعداد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شائع بھی کی تھی۔کہتے ہیں میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ایک دری تھی یا دوریاں۔بہر حال ان کے لئے اتنی ہی جگہ تھی جتنی اس جلسہ گاہ (جس پہ یہ ذکر فرما رہے ہیں اس ) کے سٹیج کی جگہ ہے۔( بلکہ آجکل ہمارے