خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 724
خطبات مسرور جلد 13 724 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے فیض پانے سے محروم رہے۔سب نشہ کرنے والوں کے لئے بھی اس میں ایک سبق ہے۔تباہی کی طرف جانے والی دنیا اب میں دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں اس کے بارے میں مختصر بتانا چاہتا ہوں کہ جس تباہی کی طرف دنیا تیزی سے جا رہی ہے اس کے لئے احباب جماعت کو بہت زیادہ دعا کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔نام نہاد اسلامی حکومت جو عراق اور شام میں قائم ہے اس کے خلاف اب مغربی حکومتوں نے فرانس کے ظالمانہ واقعہ کے بعد جو سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہوائی حملے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے بلکہ شروع کر دیئے ہیں ، اگر ان حکومتوں نے یہ حملے کرنے ہیں تو پھر ان پر کریں جو ظلم کر رہے ہیں۔ان حملوں سے اللہ تعالیٰ معصوموں اور عوام الناس کو محفوظ رکھے۔وہاں شام وغیرہ میں رہنے والے اکثر تو ایک چکی میں پس رہے ہیں۔نہ ادھر کا راستہ ہے نہ اُدھر کا راستہ ہے۔پھر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی اس فتنہ کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ خود ہمسایہ ممالک مل کر وہاں کی حکومتوں کی مدد کر کے اس فتنے کو ختم کرتے۔اس کو بڑھنے دیا گیا یہاں تک کہ یہ شر تمام دنیا میں پھیل گیا۔اور ابھی بھی یہ کہا جاتا ہے کہ بعض ممالک جو ہمسایہ اسلامی ممالک ہیں اس نام نہا داسلامی حکومت سے تجارت بھی کر رہے ہیں اور ان کا تیل وغیرہ بھی خرید رہے ہیں۔روس ترکی پر اس کا الزام لگا رہا ہے گوتر کی اس کو رڈ کرتا ہے اور روس پر الٹا الزام لگاتا ہے۔لیکن بہرحال کچھ نہ کچھ ہو تو رہا ہے۔یہ تجارت چل رہی ہے۔اس کے بارے میں میں کئی سال سے کہہ رہا ہوں۔ان ہوائی حملوں میں مغربی دنیا کے ساتھ روس بھی شامل ہے۔گو کہ مغربی دنیا سے اختلاف ہے۔روس جو ہے وہ سیر یا میں جو بشارالاسد کی حکومت ہے ان کی طرفداری کر رہا ہے۔باقی دنیا اس کے خلاف ہے۔لیکن اس وقت بہر حال داعش کے ٹارگٹ جو ہیں وہ دونوں کے مشترکہ ہیں۔لیکن اس کے باوجود جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کے اختلافات بھی موجود ہیں۔اگر سنجیدہ حالات ہوتے ہیں تو چین روس کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔سیریا کی حکومت کہتی ہے کہ یورپ کے ہوائی حملوں کا اس وقت تک فائدہ نہیں جب تک ہم سے مل کر نہیں کرتے۔پھر روس کا جو جہاز ترکی نے گرایا اس کے بعد کے اثرات سے دشمنیوں کے اظہار اور اعلانات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔پھر یہ بھی سنا ہے کہ اس نام نہاد اسلامی حکومت نے اپنا یہ بھی ایک پلان بنایا ہے کہ اگر عراق، شام کے علاقے کو چھوڑنا پڑا تو لیبیا میں پھر اپنے اڈے قائم کریں گے، وہاں حکومت قائم کریں گے۔اور پھر اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ظاہر ہے کہ