خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 723 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 723

خطبات مسرور جلد 13 723 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء ہم نے کہا چلو اب قادیان آئے ہیں تو حدیث شریف کا درس بھی سن لیں۔حدیث کا درس سن کر آئے تو ایک شخص نے کہا کھانا بالکل تیار ہے پہلے کھانا کھا لیں۔ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ٹھیک بات ہے کھانے سے فارغ ہو کر پھر اطمینان سے حقہ پئیں گے۔ابھی کھانا کھا کر بیٹھے ہی تھے کہ کسی نے کہا کہ ظہر کی اذان ہو چکی ہے۔ہم نے کہا اب آئے ہیں تو چلو قادیان میں نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ظہر کی نماز پڑھ چکے تو مرزا صاحب بیٹھ گئے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھ گئے اور باتیں ہونا شروع ہو گئیں۔ہم نے کہا کہ چلو مرزا صاحب کی گفتگو بھی سن لیں کہ کیا فرماتے ہیں پھر چل کر حقہ پئیں گے۔(حقہ دماغ سے نہیں نکلا ) وہاں سے باتیں سن کر آئے اور آکر پیشاب پاخانے سے فارغ ہو کر بیٹھے اور حقہ سلگا یا کہ اب تو سب طرف سے فارغ ہیں اب تسلی سے حقہ پیتے ہیں لیکن ابھی دوگش بھی حقہ کے نہ لگائے تھے کہ کسی نے کہا کہ عصر کی اذان ہو چکی ہے نماز پڑھ لو۔حقہ کو اس طرح چھوڑ کر ہم عصر کی نماز پر چلے گئے۔عصر کی نماز پڑھی تو خیال تھا کہ اب تو شام تک حقہ کے لئے آزادی ہو گی۔کسی نے کہا کہ بڑے مولوی صاحب مسجد اقصیٰ میں چلے گئے ہیں اور وہاں قرآن کریم کا درس ہوگا۔ہم نے سمجھا تھا کہ اب شام تک حقہ پینے کا موقع ملے گا پر خیر اب آئے ہیں تو قرآن کریم کا درس بھی سن لیتے ہیں۔بڑی مسجد میں گئے درس سنا اور سن کر واپس آئے تو مغرب کی اذان ہوگئی اور حقہ اسی طرح دھرا رہا۔پھر ہم مغرب کی نماز کے لئے چلے گئے۔نماز پڑھ کر پھر مرزا صاحب بیٹھ گئے اور ہم پھر مجبوراً بیٹھ گئے۔ہم نے کہا چلیں مرزا صاحب کی باتیں سن لیں۔آخر وہاں سے آئے سوچا کہ اب شاید حقہ پینے کا موقع ملے لیکن کھانا آ گیا اور کہنے لگے کھانا کھالو پھر حقہ پینا۔شام کا کھانا بھی کھالیا اور خیال کیا کہ اب تسلی سے حقہ کے لئے بیٹھیں گے کہ عشاء کی اذان ہوگئی۔لوگ کہنے لگے نماز پڑھ لو۔خیر عشاء کی نماز کے لئے بھی چلے گئے۔نماز پڑھ کر خدا تعالیٰ کا شکر کیا کہ اب تو اور کوئی کام نہیں رہا اب پوری فرصت ہے اور حقہ پیتے ہیں۔لیکن ابھی حقہ سلگایا ہی تھا کہ پتالگا کہ باہر سے آنے والے مہمانوں کو عشاء کے بعد بڑے مولوی صاحب کچھ وعظ ونصیحت بھی کیا کرتے ہیں۔اب بڑے مولوی صاحب وعظ کرنے لگ گئے۔وہ ابھی وعظ و نصیحت کر ہی رہے تھے کہ سفر کی کوفت اور تکان کی وجہ سے ہم کو بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی پھر پتا ہی نہیں تھا کہ ہم کہاں ہیں اور ہمارا حقہ کہاں ہے۔صبح جب اٹھا تو میں اپنا بستر اٹھا کر وہاں سے بھا گا کہ قادیان میں شریف انسان کے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 497-498) تو یہ حال تھا شرفاء کا۔اب اسی وجہ سے کہ ایک نشے کی عادت تھی دین کا علم سیکھنے سے محروم رہے۔