خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 717 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 717

خطبات مسرور جلد 13 717۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء پس ہمیں اس کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے اور اس حوالے سے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے رہنا چاہئے اور خدا کرے کہ زمانے کی ضرورت کا احساس دوسرے مسلمانوں کو بھی ہو جائے اور وہ بھی زمانے کے امام کو مانیں۔حضرت منشی اروڑے خان صاحب کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت میں بعض نام ایسے ہیں جو عجیب سے لگتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی کا نام اروڑا تھا۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔اس زمانے میں رواج تھا کہ بعض لوگ جن کے بچے عام طور پر فوت ہو جاتے ہیں وہ بچے کو میلے کے ڈھیر پر گھسیٹتے تھے۔گندی جگہ پر گھسیٹتے کہ شاید وہ اس طرح بچ جائے۔ایک رسم یا ایک طریقہ رائج تھا یا خیال کیا جاتا تھا اور پھر اس کا نام اروڑا رکھ دیا جاتا تھا۔ان منشی صاحب کا نام اسی طرح ان کے والدین نے اروڑا رکھا تھا مگر وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اروڑا نہ تھے۔میلی جگہ پر رہنے والے نہیں تھے۔ماں باپ نے ان کا یہ نام اس لئے رکھا تھا کہ شاید میلے کے ڈھیر پر پڑ کر ہی یہ بچہ زندہ رہے مگر اللہ تعالیٰ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں ڈال کر نہ صرف جسمانی موت سے بلکہ روحانی موت سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ماں باپ نے اسے گندگی کی نظر کرنا چاہا مگر خدا تعالیٰ نے اس کے پاک دل کو دیکھا اور اسے اپنے لئے قبول کیا۔چنانچہ اس نے انہیں ایمان نصیب کیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی بنے اور ایسے مخلص کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایسے اخلاص کے بغیر نجات کی امید رکھنا فضول بات ہے۔اس قسم کے مخلص تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ان کے اخلاص پر تعریف فرما رہے ہیں۔ان لوگوں نے اپنے اخلاص کا ثبوت ایسے رنگ میں پیش کیا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔یہ لوگ محبت اور پیار کے خیمے تھے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 19 صفحہ 886) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ منشی صاحب مرحوم شاید مجسٹریٹ یا سیشن جج کی پیشی میں تھے۔اس کے ساتھ کام کرتے تھے۔مہینہ میں " ایک بار ضرور قادیان آجاتے تھے اور چونکہ ایک چھٹی سے فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے جب تک ساتھ ہفتے کا کچھ وقت نہ ملے اس لئے جس دن ان کے قادیان آنے کا موقع ہوتا تو ان کا افسر دفتر والوں سے کہہ دیتا کہ آج جلدی کام ختم ہونا چاہئے کیونکہ منشی جی نے قادیان جانا ہے اگر وہ نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں برباد ہو جاؤں گا اور اس طرح ہمیشہ ان کو ٹھیک وقت پر فارغ کر دیتا۔افسر گو ہندو تھا مگر آپ کی نیکی ، تقویٰ اور قبولیت دعا کا اس پر ایسا اثر تھا کہ وہ آپ ہی آپ ان کے لئے قادیان آنے کا وقت نکال