خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 716
خطبات مسرور جلد 13 716 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 دسمبر 2015ء اوقات ٹھو کر کھا جاتے ہیں اور ان کا رہا سہا ایمان بھی ضائع ہو جاتا ہے۔لیکن کامل الایمان شخص اپنے ایمان کی بنیاد مشاہدے پر رکھتا ہے۔وہ دوسروں کے دلائل کو سن تو لیتا ہے مگر ان کے اعتراضات کا اثر قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔پھر آپ نے منشی اروڑے خان صاحب کی مثال دی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ان کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے (پہلے بھی ایک دفعہ میں اس کا ذکر کر چکا ہوں۔دوبارہ کر دیتا ہوں۔) فرماتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے بعض لوگوں نے کہا کہ اگر تم مولوی ثناء اللہ صاحب کی ایک دفعہ تقریر سن لوتب تمہیں پتا لگے کہ مرزا صاحب بچے ہیں یا نہیں۔وہ کہنے لگے میں نے ایک دفعہ ان کی تقریر سن لی ( مولوی ثناء اللہ صاحب کی )۔بعد میں لوگ مجھ سے پوچھنے لگے اب بتاؤ کیا اتنے دلائل کے بعد بھی مرزا صاحب کو سچا سمجھا جا سکتا ہے۔کہتے ہیں میں نے کہا میں نے تو مرزا صاحب کا منہ دیکھا ہوا ہے۔ان کا منہ دیکھنے کے بعد اگر مولوی ثناء اللہ صاحب دو سال بھی میرے سامنے تقریر کرتے رہیں تب بھی ان کی تقریر کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ جھوٹے کا منہ ہے۔بیشک مجھے ان کے اعتراضات کے جواب میں کوئی بات نہ آئے میں تو یہی کہوں گا کہ حضرت مرزا صاحب سچے ہیں۔غرض حکمت کا معلوم ہونا ایک کامل مومن کے لئے ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اس کا ایمان عقل کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ مشاہدے کی بنا پر ہوتا ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 279-280) منشی اروڑے خان صاحب کا یہ واقعہ ہے۔اس حوالے سے بھی یہ سامنے لانا ضروری تھا کہ ہمیں خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھانے سے ہی ہو سکتا ہے اور اسی طرح پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یقین بھی اس وقت حقیقی ہوگا جب اس بات پر قائم ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور یہ وقت کی ضرورت ہے۔وقت تقاضا کر رہا ہے۔اس زمانے میں ایک مصلح آنا چاہئے تھا۔مسیح موعود کو آنا چاہئے تھا۔دنیا کی حالت ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت ہے اس کے علاوہ کوئی دلیلوں کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اس بگڑے ہوئے زمانے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔پس اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو پھر خوف کردگار بھی ہوتا ہے اور پھر کثرت اعجاز کی ضرورت نہیں ہوتی۔دلیلوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔معجزے مانگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔زمانے کی ضرورت اور آپ کی زندگی کا ہر لمحہ آپ کی صداقت کا ثبوت ہے۔