خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 702
خطبات مسرور جلد 13 702 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء غیر انسانی فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے۔نیز یہ بھی کہا کہ اسلام کی ترقی کے لئے ہمیں تلوار کی نہیں بلکہ اپنے اندر کی برائی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔امام جماعت احمدیہ نے بھر پور انداز میں شدت پسندی کی مذمت کی۔اور اس کے visitors کی تعداد بھی جب یہ مختلف ویب سائٹس پر ڈالا گیا اسی طرح لاکھوں میں ہے۔اسی طرح جاپان کا ایک اخبار Mainichi Shinbun (مائی نیچی شم بن ) لکھتا ہے کہ جاپان کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح ہوا۔مسلمانوں کی ایک تنظیم جماعت احمد یہ عالمگیر کے سر براہ مرزا مسرور احمد نے یہاں 20 نومبر کو آئی چی کے صوبہ کے سوشیما شہر میں جاپان کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کیا۔پھر کہتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی اور شدت پسندی کی مذمت کی ہے۔پھر کہتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر اسلام پھیلانے کا نظریہ غلطی خوردہ ہے۔انسانی جانوں کا ضیاع اور انہیں پہنچنے والی تکالیف خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہیں۔بہر حال ان ٹی وی چینلز کے ذریعہ سے اور اخبارات کے ذریعہ سے اور انٹرنیٹ اور ویب سائٹس میں اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر جو بریں شائع ہوئی ہیں ان کے ذریعہ سے مجموعی طور پر تقریباً پانچ کروڑ ہیں لاکھ افراد تک اسلام کا یہ پیغام پہنچا ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہیں جو مسجد کے ذریعہ اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کی وجہ سے ہمیں نظر آئے۔دوسری طرف ملاں بھی اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر رہے ہیں اور اس بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما چکے ہیں کہ انہوں نے غیظ و غضب کا اظہار کرنا تھا بلکہ خاص جاپان کے حوالے سے بھی آپ نے فرمایا۔اس لئے مُلاں کا یہ غیظ وغضب تو ہونا تھا۔چنانچہ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو یہاں تک یقین رکھتا ہوں کہ اگر میری طرف سے کوئی کتاب اسلام پر جاپان میں شائع ہو تو یہ لوگ ( یعنی ملاں ) میری مخالفت کے لئے جاپان بھی جا پہنچیں گے لیکن ہوتا وہی ہے جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 25) 2013ء میں جب میں نے جاپان کا دورہ کیا ہے تو اس وقت بھی پاکستان کا ایک مولوی جاپان میں گیا اور اس نے کہا کہ میرے باپ کا یہ مشن تھا کہ چاہے جہاں بھی جائیں۔سمندر پار احمدی قادیانی جائیں تبلیغ کریں تو ہم (وہاں) جاکر ان کی تبلیغ کو روکیں گے۔اور 2013ء میں جب یہ مولوی جاپان گیا تھا تو وہاں جاکے اس نے جو تقریر کی اس نے یہ کہا تھا کہ یہ لوگ یعنی احمدی اپنے عقیدے اور مشن کے ساتھ اس قدر مخلص