خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 698
خطبات مسرور جلد 13 698 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2015ء ایک جاپانی خاتون مسز اوزو کی (Mrs Uzuki) صاحبہ کہتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آج کا یہ دن میری زندگی کی کایا پلٹ دینے والا دن تھا۔امام جماعت احمدیہ نے میرا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نظر یہ کلیہ تبدیل کر دیا ہے۔پھر میرے خطاب کے بارے میں کہتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ یہ تلوار سے جہاد کرنے کا زمانہ نہیں بلکہ پیار سے جہاد کرنے کا زمانہ ہے۔کہتی ہیں جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی باتوں کا مجھ پر بہت گہرا اثر ہوا ہے۔میں تو کہوں گی کہ سب لوگوں کو یہاں آ کر یہ مسجد دیکھنی چاہئے اور احمدیوں سے اسلام کے بارے میں سیکھنا چاہئے۔ایک جاپانی خاتون Mrs Haiashi صاحبہ کہنے لگیں کہ پہلے بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے جاپان میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا تھا۔میں اس تقریب میں بھی شامل تھی لیکن اس تقریب میں شامل ہونے کے بعد بھی اس وقت کچھ سوال میرے ذہن میں باقی رہ گئے تھے لیکن آج جماعت کے خلیفہ نے اپنے خطاب میں میرے ان تمام سوالوں کے جواب دے دیئے۔اب میرے دل میں اسلام کے بارے میں کسی قسم کا کوئی خدشہ یا خوف باقی نہیں رہا۔آج میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ اسلام دنیا کے لئے خطرہ نہیں ہے بلکہ ہم سب کو یکجا کرسکتا ہے۔پھر ایک جاپانی خاتون جو سکول کی ٹیچر تھیں۔کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا خطاب سننے سے پہلے دفتر میں ان سے ملاقات کا بھی موقع ملا۔یہ اپنے بہت سارے سٹوڈنٹ لے کر آئی ہوئی تھیں پندرہ سولہ سٹوڈنٹ تھے اور چار پانچ ٹیچر تھے۔کہتی ہیں کہ خلیفہ اسیح نے ملاقات کے دوران اور پھر بعد میں اپنے خطاب کے ذریعہ میرے تمام سوالات کے جوابات دے دیئے۔اب میرا پختہ یقین ہے کہ اسلام ایک امن کا مذہب ہے۔میں یہاں اپنے بعض طالبعلموں کو ساتھ لے کر آئی تھی۔یہ طالبعلم پہلے اسلام سے خوفزدہ تھے لیکن امام جماعت احمدیہ کا خطاب سن کر اور باتیں کر کے ان کا نظریہ تبدیل ہو گیا ہے بلکہ یہ خطاب سن کر وہ سخت حیران ہوئے اور مسجد میں اپنے آپ کو بہت محفوظ سمجھنے لگے۔(جیسے پہلے خطرہ تھا۔) کہتی ہیں کہ میں چاہتی ہوں کہ جاپانیوں اور احمدیوں کے بیچ اس تعلق میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔ان کے ساتھ ایک جاپانی طالبعلم آئے ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ یہ جو خطاب تھا ایک امن کا پیغام تھا۔میرا خیال ہے کہ اب اس مسجد کے ذریعہ مسلمانوں اور دیگر لوگوں کے بیچ جوخلیج ہے وہ دور ہو جائے گی اور جاپان میں اسلام پھیلنے لگ جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میڈیا کے ذریعہ بھی مسجد کے افتتاح کا کافی چر چاہوا اور وسیع پیمانے پر