خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 687
خطبات مسرور جلد 13 687 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء سے بڑھ کر خلیفہ وقت سے رابطے کا ذریعہ ہے۔ایک ماں نے گزشتہ دنوں یہاں ملاقات میں ذکر کیا کہ بچوں کی تربیت کا انتظام نہیں ہے۔انتظام ہونا چاہئے۔تو بجائے اس کے کہ مبلغ کو یا انتظامیہ کوموردالزام ٹھہرائیں۔یہ سوچیں کہ ہفتہ میں چھ دن تو بچے یا ماں باپ کے پاس ہوتے ہیں یا سکول میں ہوتے ہیں۔جب وہ گھر میں ہوں تو ان کو کم از کم خلیفہ وقت کے پروگراموں کو سننے کی طرف توجہ دلائیں۔اس سے ایک تعلق اور محبت قائم ہوگا۔اس سے تربیت ہوگی۔انہیں جماعت کی وحدت کا پتا چلے گا۔پس ماں باپ نے اگر اپنی اگلی نسلوں کو سنبھالنا ہے تو خود بھی خلیفہ وقت کے پروگراموں کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑیں اور اپنے بچوں کو بھی جوڑیں۔بعض غیر احمدی بھی مجھے بعض دفعہ لکھتے ہیں کہ آپ کا خطبہ یا فلاں پروگرام سن کر ہمیں دین کی حقیقت کا پتا چلا۔تو احمدی کو تو دین سیکھنے اور اصلاح کے لئے اور وحدت قائم کرنے کے لئے خلیفہ وقت کے پروگراموں کے ساتھ جڑنا بے انتہا ضروری ہے۔اگر یہاں مثلاً جاپان میں وقت کا فرق ہے تو وہاں جب لائیو خطبہ اور وقت ہو رہا ہوتا ہے تو مختلف اوقات میں پروگرام آتے ہیں سنے جاسکتے ہیں۔ایک بیماری بعض لوگوں میں یہ ہے کہ ایک دوسرے کی برائیاں تلاش کرتے رہتے ہیں۔بجائے برائیاں تلاش کرنے کے تعمیری کاموں پر اپنا وقت لگائیں۔اس طرح عہدیدار بھی چاہے وہ صدر جماعت ہیں یا دوسرے عہدیدار ہیں محبت اور پیار سے لوگوں کی تربیت کریں۔محبت اور پیار کو فروغ دیں۔رنجشیں بڑھانے کے بجائے محبتیں بڑھانے کی کوشش کریں۔دوسروں کو تو پیغام دے رہے ہیں کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں اور خود دلوں میں اگر بغض اور کینے ہوں تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔جو بھی ایسی حالت میں ہیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر اس حالت کو بدلیں۔اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں اور ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو سچا مومن ہونے کی خدا تعالیٰ نے بشارت دی ہے۔بعض دفعہ گھروں میں نظام جماعت کے خلاف باتیں کرنے یا عہد یداروں کے خلاف باتیں کرنے کو ایک معمولی چیز سمجھا جاتا ہے لیکن غیر محسوس طور پر اس سے آپ لوگ اپنی اگلی نسلوں کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔پس سوچیں کہ دعوی تو ہم یہ کر رہے ہیں کہ امر بالمعروف کریں گے اور نہی عن المنکر کریں گے۔نیکیوں کو پھیلائیں گے اور برائیوں کو روکیں گے تو پھر پہلے اپنے اور اپنے گھر کے افراد اور بچوں کو اس کا مخاطب بنا ئیں ورنہ آپ کی تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔یہ مسجد تو بنالی ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اس مسجد کا