خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 662 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 662

خطبات مسرور جلد 13 662 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 نومبر 2015ء ہوئے ہیں۔آسٹریلیا نے اس میں کافی ترقی کی ہے۔شامل کرنے کے لئے کوشش کی ہے اور تقریباً چورانوے فیصد لوگوں کو شامل کر لیا ہے۔کینیڈا نے بہت کوشش کی ہے اکانوے فیصد کو شامل کیا ہے۔بھارت نے بھی اس بارے میں کافی کام کیا ہوا ہے۔لگتا ہے ان کی رپورٹ نہیں آئی۔میرا خیال ہے وہ بھی اس کے برابر ہی ہیں۔اگر رپورٹ نہیں بھیجی تو بھجوا دیں۔اس کے علاوہ افریقہ کے ملکوں میں اس بارے میں کافی کام کیا گیا ہے۔مالی نے اس سال کافی کام کیا ہے۔بورکینا فاسو، کانگو برازاویل، گنی کنا کری، کیمرون، گھانا، سینیگال، ساؤتھ افریقہ۔پہلے سے بڑھ کر انہوں نے شامل کرنے میں کوشش کی ہے۔دفتر اول کے شامل افراد کے پانچ ہزار نوسوستائیں کھاتے ہیں جس میں سے پچاسی خدا کے فضل سے حیات ہیں اور اپنے چندے خود ادا کر رہے ہیں۔باقی پانچ ہزار آٹھ سو بیالیس وفات شدگان کے کھاتے بھی ان کے ورثاء نے جاری کر دیئے ہیں۔پاکستان کی تین بڑی جماعتیں جنہوں نے قربانی کی۔پہلے نمبر پر لاہور ہے۔دوسرے نمبر پر ربوہ۔تیسرے پر کراچی۔اور وصولی کے اعتبار سے قربانی کرنے والے اسلام آباد، ملتان، کوئٹہ، پشاور، حیدر آباد، میر پور خاص، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور جھنگ ہیں۔دس اضلاع جو بڑے ہیں جنہوں نے قربانی کی۔سیالکوٹ نمبر ایک، فیصل آباد دو۔سرگودھا تین۔عمر کوٹ چوتھے نمبر پر۔گوجرانوالہ اور گجرات پانچویں پر۔ٹو بہ ٹیک سنگھ چھٹے پر۔میر پور آزاد کشمیر ساتواں۔اوکاڑہ آٹھ۔ننکانہ صاحب اور سانگھڑ۔گزشتہ سال کی نسبت درج ذیل جماعتوں نے زیادہ کارکردگی پیش کی۔جو چھوٹی جماعتیں ہیں ان میں ایک حیدر آباد کی صابن دستی۔پھر گھٹیالیاں خورد ہے۔شہداد پور۔کھوکھر غربی۔کنری۔چک نو پنیار۔ساہیوال۔بشیر آبادسٹیٹ۔عنایت پور بھٹیاں۔جرمنی کی دس جماعتیں نوکس اور روڈر مارک، فلور زہائم ، کولون ، نیدا، مهدی آباد، نوئزن برگ، فریڈ برگ ، درائے آئش اور کوبلنز۔دس لوکل امارتیں ہیمبرگ، فرینکفرٹ، گروس گراؤ، ڈارم شٹڈ، ویز بادن، من ہائم ، موئر فیلڈن والڈورف ، ڈیٹسن باخ ، ریڈ فنڈ ، آفن باخ۔