خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 634
خطبات مسرور جلد 13 634 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 اکتوبر 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سراراحم فرمودہ مورخہ 30 را کتوبر 2015 ء بمطابق 30 راخاء 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات اور آپ کے حوالے سے جو آپ نے بعض حکایات بیان کیں ان کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی مختلف تقاریر میں بیان کیا ہوا ہے ان کو مختلف جگہوں سے لے کے میں آج بیان کروں گا۔ہر واقعہ یا حکایت علیحدہ علیحدہ اپنے اندر ایک نصیحت کا پہلو رکھتی ہے۔اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ افراد جماعت کو اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہئے۔دینی علم رکھنے والے حالات حاضرہ سے بھی واقفیت رکھیں اور تاریخ سے بھی واقفیت رکھیں۔خاص طور پر وہ جن کے سپرد تبلیغ کا کام ہے۔مربیان ہیں، مبلغین ہیں ان کو چاہئے کہ خاص طور پر توجہ دیں۔آج کل کی دنیا میں تو یہ معلومات فوری طور پر بڑی آسانی سے مہیا ہو جاتی ہیں۔بہر حال ایک حکایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمائی ہے جو علمی استعداد بڑھانے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔موقع محل کے مطابق اپنی علمی صلاحیت کے اندر رہنے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے اور حقیقی بزرگی کے معیار کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے ہم نے یہ واقعہ سنا ہوا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی شخص تھا جو بڑا بزرگ کہلاتا تھا۔کسی بادشاہ کا وزیر اتفاقاً اس کا معتقد ہو گیا اور اس نے ہر جگہ اس شخص کی بزرگی اور اس کی ولایت کا پروپیگنڈا شروع کر دیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ بڑے بزرگ اور خدارسیدہ انسان ہیں۔یہاں تک کہ اس نے بادشاہ کو بھی تحریک کی اور کہا کہ آپ ان کی ضرور زیارت کریں۔چنانچہ بادشاہ نے کہا اچھا فلاں دن میں اس بزرگ کے پاس جاؤں گا۔جو بنا ہوا