خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 627 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 627

خطبات مسرور جلد 13 627 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23اکتوبر 2015ء مسجد صرف عبادت کے لئے نہیں ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کے لئے بھی ہے۔میں نے سیکھا ہے کہ مسجد ہمسایوں کا خیال رکھنے کی بھی جگہ ہے۔میں نے سیکھا ہے کہ مسجد امن پھیلانے کا مقام ہے۔اسلام کے بارے میں تمام سوالات یا خوف جو کسی انسان کو ہو سکتے ہیں امام جماعت کے خطاب سے دور ہو جاتے ہیں۔پھر ایک مہمان جرنلسٹ کہتے ہیں کہ میرا ارادہ تھا کہ اس تقریب کے بعد میں امام جماعت کا انٹرویو کروں گا۔لیکن کہتے ہیں خلیفہ مسیح کا خطاب سن کر کسی قسم کے انٹرویو کی ضرورت نہ رہی کیونکہ انسان کے ذہن میں اسلام کے بارے میں جو بھی ممکنہ خوف یا سوالات آ سکتے تھے ان سب کا جواب خلیفہ اسیح نے اپنے خطاب میں دے دیا۔ایک خاتون نے بتایا کہ ان کے خاوند بھی ساتھ آئے ہوئے تھے لیکن انہوں نے جب انہیں کہا کہ اندر آ جاؤ تو انہوں نے کہا کہ میں تو اندر نہیں جاؤں گا۔ان کو وہیں کار سے ڈراپ کر کے تو پارکنگ میں چلے گئے کہ یہ مسلمانوں کا فنکشن ہے اور کہتے ہیں کہ میرا دل کہتا ہے کہ یہاں آج دھما کہ ہو جاتا ہے اس لئے مجھے تو اپنی جان بڑی پیاری ہے۔تمہیں مرنا ہے تو تم جاؤ۔میں تو نہیں جاتا۔کہتی ہیں اب میں جاکے انہیں بتاؤں گی کہ تم نے آج کے دن کا جو ایک بہترین پروگرام تھا وہ miss کر دیا کیونکہ وہاں تو سوائے امن اور پیار اور محبت کے کچھ بھی نہیں تھا۔تو لوگ ایسی بھی سوچ رکھتے ہیں۔ایک جرمن خاتون بھی اس موقع پر آئی ہوئی تھیں۔خطاب سنا اور خطاب سننے کے دوران ہر بات پر یہی کہتی رہی کہ یہ سچ ہے، سچ ہے۔اس کے بعد اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں پہلی دفعہ اس پروگرام میں آئی ہوں اور آپ کے انتظامات دیکھ کر حیران ہوں۔آپ کا جو نظام ہے اس میں ہر انسان ایک سلجھا ہوا انسان دکھائی دے رہا ہے۔اب یہ جولوگوں کے تاثرات ہوتے ہیں یہ ہمیں یہ یاد کرانے کے لئے بھی ہیں کہ ہمیں ہمیشہ اپنا رویہ ایسا رکھنا چاہئے کہ سلجھے ہوئے دکھائی بھی دیں۔یہ صرف عارضی موقعوں پر نہیں بلکہ اپنے یہ رویے ہمیشہ مستقل بنا ئیں۔کہتی ہیں کہ مجھے بڑے دکھ سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم جرمن اس سے عاری ہو چکے ہیں جو اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔کہتی ہیں کہ میں جو اخلاقی قدریں گھر میں اپنے بچوں کو سکھانا چاہتی ہوں انہی قدروں کے خلاف سکول میں تعلیم دی جارہی ہے لیکن مجھے تو یہاں انسان کی حقیقی عزت دکھائی گئی۔پس یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ آزادی کے نام پر بچوں کو یہ تعلیم دی جارہی ہے جو بہت کچھ ہے۔یہاں کے رہنے والے لوگ خود ان باتوں سے بڑے پریشان ہیں۔اس لئے اپنے بچوں کو ہمیں بھی خاص طور پر