خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 625
خطبات مسرور جلد 13 625 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 اکتوبر 2015ء یہ ایک مذہبی اخبار بھی ہے۔ان انٹرویوز اور میڈیا کے ذریعہ سے جو کوریج ہوئی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھی تھی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ پہلی دفعہ ہالینڈ جماعت نے اتنا وسیع رابطہ کیا ہے اور اس لحاظ سے ان کا پروگرام بہت اچھا تھا۔ہالینڈ کے تین نیشنل اور 9 ریجنل اخبارات نے دورے کے حوالے سے خبریں دیں اور رپورٹس شائع کیں۔9 اخبارات نے اپنے انٹرنیٹ کے ایڈیشن میں خبریں دیں۔اخبارات کے ذریعہ سے کل تین ملین سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔آر۔ٹی۔وی ریڈیو جس کا میں نے ذکر کیا ہے یہ (انٹرویو ) بھی کے۔پی۔این ٹی وی نیٹ ورک کے ذریعہ ملکی سطح پر اور ویب سٹریم کے ذریعہ تمام دنیا میں نشر کیا گیا۔نیشنل ریڈیو نے 1/7اکتوبر کو رات 9 بجے دورے کے حوالے سے پانچ منٹ کا پروگرام بھی نشر کیا۔اس طرح ریڈیو کے ذریعہ بھی قریباً نصف ملین تک پیغام پہنچا۔پھر ان کا جوٹی وی چینل ہے اس نے بھی دورہ کے حوالے سے پانچ منٹ کی خبر دی جس میں پارلیمنٹ کا اور مسجد کی بنیاد کا ذکر کیا۔اس کے علاوہ ملک کے نیشنل ٹی وی پر بھی خبریں نشر کی گئیں۔اس طرح ان دونوں ٹی وی چینلز کے ذریعہ بھی ان کا خیال ہے کہ پانچ ملین لوگوں تک پیغام پہنچا تو مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو اس پرنٹ میڈیا کے ذریعہ سے ان کی اس دفعہ پہلی کوشش میں ہالینڈ میں آٹھ ملین افراد تک یہ پیغام پہنچا ہے۔ہالینڈ میں جماعت ہالینڈ کی دوسری مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی بھی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ اس کی تعمیر بھی جلد مکمل کروائے۔60 سال کے بعد وہاں جماعت با قاعدہ مسجد بنا رہی ہے۔سینٹر تو ہیں، ایک دو سینٹر لئے تھے مگر باقاعدہ مسجد نہیں تھی اور یہ وقت کی بڑی ضرورت تھی کہ مسجد ہوتی۔سنگ بنیاد کی تقریب میں شامل مہمانوں کی مجموعی تعداد 102 تھی۔ان مہمانوں میں المیر سے شہر جہاں یہ مسجد بن رہی ہے وہاں کے میئر ، حجز ، وکلاء، ڈاکٹرز، آرکیٹکٹس، مذہبی لیڈر اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہمان شامل تھے۔اس کے علاوہ البانیا، مونٹی نیگرو، کروشیا، سویڈن، سپین اور سوئٹزرلینڈ کے جو مہمان ایک دن پہلے فنکشن پر آئے ہوئے تھے وہ بھی شامل ہو گئے۔المیرے کے میئر صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی جو بھی باتیں مسجد کے بارے میں کی گئی ہیں، سن کر دل پر بڑا اثر ہوا ہے اور یہ پیغام جو آپ نے دیا ہے ایک پرامن فضا قائم کرنے کے لئے نہایت اثر انگیز ہے اور ہم سب کو مل کر اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں امید ہے کہ مسجد کے ذریعہ امن کا یہ پیغام ضرور پھیلے گا۔پھر وہاں کی ایک لوکل کونسل کے ممبر کونسلر ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ پیغام جو ہے تمام مکاتب فکر کے