خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 622 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 622

خطبات مسرور جلد 13 622 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 اکتوبر 2015ء انہوں نے وہاں آخر میں بھی کیا تھا۔پھر اور بھی بہت سے معزز مہمانوں نے اس پروگرام کو سراہتے ہوئے اسلام کی حقیقی تعلیم کا چہرہ دکھانے پر شکریہ ادا کیا۔ہالینڈ کے سابق وزیر دفاع بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔فنکشن کے بعد بھی وہ میرے ساتھ بڑی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پیغام سے اسلام کا حقیقی چہرہ دیکھنے کا موقع ملا ہے اور مجھے کہا کہ اب یہ خواہش ہے کہ آپ بار بار ہالینڈ آئیں تا کہ لوگوں کے دل سے اسلام کا ڈرنکل جائے۔پھر کہتے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی کے سوالات پر آپ کے جوابات کسی بھی مناسب سوچ رکھنے والے شخص کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی تھے۔اس تقریب میں سپین کے ایمبیسیڈ ربھی آئے ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ بالخصوص جس طرح امام جماعت نے freedom of speech، برداشت اور دوسرے مذاہب کے لئے عزت و احترام جیسے حساس سوالات کے جوابات دیئے وہ نہایت موزوں تھے اور پھر یہ بھی کہ تقریر کے دوران برداشت، مذہبی آزادی اور اخوت کے بارے میں جو باتیں اسلام کی تعلیم کے مطابق بیان کیں، کہتے ہیں یہ دل کو لگتی ہیں اور میں ان کی بڑی حمایت کرتا ہوں۔کیونکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور دنیا کے امن کے لئے ان اقدار کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔سپین کے ممبر آف پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ انسانیت کے لئے امن ، آزادی اور خدا تعالیٰ جو تمام مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے اس سے محبت کا پرکشش پیغام سن کر خوشی ہوئی۔ایک ایسی دنیا کے لئے جہاں جنگوں اور مذہب کے نام پر کئے جانے والے مظالم میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس قسم کے امن کے پیغام پر ہم کو مشکور ہونا چاہئے۔آج پہلے سے بڑھ کر ان سب لوگوں کو جو امن چاہتے ہیں اور مذہب پر عمل کرتے ہیں انہیں متحد ہونا چاہئے۔ہمیں ان باتوں پر توجہ دینی چاہئے جو ہمارے درمیان یکساں ہیں بجائے اس کے کہ ہم اپنے درمیان پائے جانے والے تضادات پر زور دیں۔پھر مونٹی نیگرو سے بھی تین احباب آئے تھے۔ان میں ایک ممبر آف نیشنل پارلیمنٹ تھے۔کہتے ہیں کہ یہ تقریب جماعت کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کے امام نے اسلام کی حقیقی تعلیم نہایت اعلیٰ سطح پر پیش کی۔ہالینڈ کے ممبران پارلیمنٹ کے سوالات نہایت جارحانہ تھے لیکن انہوں نے جوابات نہایت مدلل اور حقائق پر مبنی دیئے اور یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ امام جماعت جرأت اور خود اعتمادی کے ساتھ دلیل سے بات کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ آج کی پر خطر دنیا میں ایسی تقریبات کی اشد ضرورت ہے۔