خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 621
خطبات مسرور جلد 13 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23اکتوبر 2015ء کیونکہ جب میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لئے آئے تو کہنے لگے کہ اگر میرے سوال مناسب نہیں تھے تو میں اس کے لئے معذرت چاہتا ہوں۔بہر حال اس پروگرام کی تو ایک لمبی تفصیل ہے۔ایم ٹی اے پر آپ نے سن لی ہوگی۔دیکھ بھی لی ہوگی یار پورٹ میں پڑھ لیں۔اس وقت تو یہ سب کچھ یہاں بیان نہیں ہو سکتا۔لیکن بہر حال اس پروگرام میں شامل مہمانوں اور پروگرام سننے والے جو غیر تھے ان پر اسلام کی تعلیم کا اچھا اثر پڑا ہے۔بعض دفعہ یہ خیال بھی بعد میں آتا ہے کہ فلاں سوال کا اس طرح جواب زیادہ مناسب ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنا ایسا فضل فرمایا کہ جو بھی جواب دیئے گئے تھے انہوں نے ہی غیروں پر اچھا اثر ڈالا اور اس بات کا انہوں نے اظہار بھی کیا کہ ایسے سوالوں کے اسی قسم کے جواب تھے جو بہترین رنگ میں دے دیئے گئے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اسی لئے وہ دلوں پر قبضہ کر کے رعب ڈال دیتا ہے۔انسانی کوششیں تو کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔یہ پروگرام منعقد ہونا بذات خود اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے ورنہ ہالینڈ کی جماعت اگر کہے کہ کسی کی کوشش سے ہوا ہے یا جماعت کی کوشش سے ہوا ہے، کسی شخص کی کوشش سے ہوا ہے تو وہ غلط ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر یہی کہیں گے کہ ہمیں تو مجھ نہیں آئی کہ یہ ہو کیسے گیا۔اس پروگرام کے معیاری ہونے کے بارے میں جن ممبر پارلیمنٹ نے اسے منظم کروایا تھا انہوں نے ہمارے ایک احمدی کو بعد میں کہا کہ اس کی میڈیا میں بہت زیادہ کو ریج ہونی چاہئے تھی۔حالانکہ ہمارے خیال میں کافی ہو گئی لیکن ان کے نزدیک اس سے زیادہ ہونی چاہئے تھے اور پہلے صفحہ کی سرخی ہونی چاہئے تھی تا کہ ملک کے لوگوں کو اسلام کی صحیح تعلیم کا پتا چلتا۔بہر حال انہوں نے کہا کہ میری تسلی نہیں ہوئی۔جتنا ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہوا۔انہوں نے ہی اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ مجھ سے بہت سے ممبران پارلیمنٹ نے پوچھا کہ یہ پروگرام کس طرح تم نے منعقد کروالیا ؟ ( تو صرف اپنے نہیں غیروں کے نزدیک بھی یہ بہت مشکل تھا کہ ایک چھوٹی سی جماعت کے پروگرام اس طرح پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کروائے جاتے۔) یہ ممبر آف پارلیمنٹ کہتے ہیں کہ یہ جو پروگرام تھا حاضری وغیرہ کے لحاظ سے اور جو نفس مضمون بیان ہوا ہے اس کے لحاظ سے میری امید سے بہت زیادہ کامیاب رہا اور یہ کہتے ہیں کہ اب اس کے دور رس نتائج نکلیں گے کیونکہ امام جماعت احمدیہ نے اپنا پیغام نہایت مؤثر رنگ میں دیا۔ہالینڈ کے لوگوں کا یہ حق ہے کہ ان کو اسلام کا امن پسند چہرہ بھی دکھایا جائے۔ان کو اس پیغام کی ضرورت ہے۔یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ اسیح کے ساتھ پارلیمنٹ کی یہ تقریب پہلا قدم تھا۔اب ہم مزید ایسے پروگراموں کا انعقاد کریں گے۔بلکہ یہ اظہار