خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 608 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 608

خطبات مسرور جلد 13 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء ہے جسے تم نے پالیا ہے۔اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔یہ آہستہ آہستہ پورے سوازی لینڈ میں پھیل جائے گی۔خواب میں مجھے سمجھایا گیا کہ اس روشنی سے مراد احمدیت ہے جو آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیل جائے گی۔انشاء اللہ تعالی۔اس خواب کے بعد اس نو احمدی کو غیر معمولی طور پر ثبات قدم عطا ہوا ہے۔پھر مالی کا ایک اور واقعہ ہے۔ایک جماعت ناندرے بوغو میں ایک بزرگ سعید صاحب ہیں۔احمدیت کے بارے میں انہوں نے سنا تھا لیکن وہ احمدیت کے بارے میں اپنی تسلی کرنا چاہتے تھے۔اس کے لئے انہوں نے چالیس راتوں کا چلہ کیا۔وہ کہتے ہیں کہ اکیسویں رات انہوں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ساتھ مجھے بھی دیکھا کہ دونوں ان کے گھر میں آتے ہیں اور انہیں اپنے ساتھ آسمان پر لے جاتے ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں یہ خواب دیکھ کر ان کی تسلی ہو گئی ہے اور انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ افریقن لوگ یونہی احمدیت قبول کر لیتے ہیں لیکن چونکہ ان میں حق قبول کرنے کی جستجو ہے اس لئے سنتے ہیں اور پر کھتے ہیں۔ڈھٹائی نہیں دکھاتے اور کیونکہ فطرت نیک ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی بھی فرماتا ہے۔دین کے لئے ان کے دل میں ایک درد تھا۔تبھی تو چالیس دن انہوں نے چلہ کرنے کا سوچا۔مالی کے ہی ایک اور صاحب ماما المجو با (Maman joba) ہیں۔انہوں نے جماعت احمدیہ کے بارے میں سنا لیکن انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آیا جماعت سچی ہے یا نہیں۔اس پر انہوں نے استخارہ کیا۔استخارے کے تیسرے دن انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک کشتی میں سفر کر رہے ہیں۔یہ کشتی عین پانی کے درمیان میں الٹ جاتی ہے اور تمام لوگ ڈوبنے لگتے ہیں۔اتنے میں پانی سے ایک بچہ نکلتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تم بچنا چاہتے ہو تو احمدیت قبول کر لو۔اس پر انہوں نے خواب میں ہی احمدیت قبول کر لی جس سے وہ بچ جاتے ہیں جبکہ دیگر تمام افراد ڈوب جاتے ہیں۔چنانچہ خواب کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔پھر سیرالیون سے عبدل صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب تو احمدی تھے۔(بعض دین سے دور ہٹے ہوؤں کو ، بگڑے ہوؤں کو بھی اللہ تعالیٰ والدین کی دعا کی وجہ سے یا اپنی اور نیکیوں کی وجہ سے بھی رہنمائی فرماتا ہے) کہتے ہیں میرے والد صاحب احمدی تھے لیکن میں بعض وجوہات کی بنا پر جماعت سے دُور ہوتا گیا اور تبلیغی جماعت میں شامل ہو کر تبلیغ کے لئے جانے لگ گیا تبلیغی جماعت والے افریقہ میں بھی پاکستان سے بھی جاتے ہیں، ہندوستان سے بھی جاتے ہیں تو کہتے ہیں بہر حال مبلغ نے اور