خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 587 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 587

خطبات مسرور جلد 13 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02اکتوبر 2015ء فضل سے دوبارہ خوبصورت شکل میں واپس لانا ہے۔فی الحال مجھے اس کے لئے جماعت کو کسی علیحدہ تحریک کے لئے کہنے کی ضرورت نہیں۔لیکن لوگوں نے بغیر کہے، از خود اس کے لئے رقم بھیجنی شروع کر دی ہے۔بچوں نے خاص طور پر اس کے لئے چندہ دینا شروع کیا ہوا ہے۔بغیر کہے خود بچے اپنی جو بگھیاں ہیں وہ پیش کر رہے ہیں بلکہ سالم بگھیاں ہی بھیج دی ہیں جن میں جتنے سکے جمع تھے سب دے دیئے۔سات آٹھ سال کی ایک بچی نے اپنے باپ کو کہا جب اس نے تفصیل پوچھی کہ ان ہالوں میں تو ہم جا کے کھانا بھی کھایا کرتے تھے۔کھیلتے بھی تھے فنکشن بھی کرتے تھے تو ہمیں اس کو دوبارہ بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔اس لئے میرے پاس جو پیسے جمع ہیں میں دیتی ہوں اور اپنی گھی اٹھا کر لے آئی۔یہ بچی کے جذبات ہیں۔پس جب قوم کے بچے بھی ایسا عزم رکھتے ہوں تو پھر ان کو کون مایوس کر سکتا ہے، یہ معمولی نقصان کیا کہہ سکتے ہیں۔پھر ہمارے اپنے ہمسائے ہیں وہ بھی اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امیر صاحب نے بتایا کہ یہاں سکول کے ہیڈ ماسٹر کا پیغام آیا کہ سکول کے بچے اس عمارت کی دوبارہ تعمیر کے لئے کچھ رقم اکٹھی کر کے چندہ دینا چاہتے ہیں۔یہ اعلیٰ اخلاق جو مسلمانوں کو دکھانے چاہئیں، یہ غیر مسلم دکھا رہے ہیں۔چاہے ہم لیں یا نہ لیں بہر حال انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور ہمیں ان کے جذبات کی قدر کرنی چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ تھی۔بعض لوہے کے گارڈر اور فریم اس طرح چر مر ہو گئے ہیں جس طرح تنکوں کو مروڑا جاتا ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض دفاتر بیچ بھی گئے ہیں۔ان کے ریکارڈ بھی محفوظ ہیں۔وصیت کا دفتر ہے، قضا کا دفتر ہے یا اور دفاتر ہیں۔اسی طرح ایم ٹی اے کا تمام حصہ بیچ گیا۔وہاں بڑا قیمتی سامان بھی تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب آج وہاں کام شروع بھی ہو گیا ہے۔کیونکہ یہ حصہ ان بالوں کے بالکل ساتھ جڑا ہوا تھا اس لئے جب مجھے اطلاع ملی تو فکر بھی پیدا ہوئی بلکہ دعا بھی حقیقت میں اس کے لئے ہی شروع ہوئی، اس کے بعد ہی شروع ہوئی کیونکہ یہاں آگ پہنچنے کا مطلب تھا کہ اب اصل مسجد کی طرف بھی آگ بڑھ سکتی تھی۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ان کی لائبریری کو نقصان تو پہنچا ہے لیکن اس کا بھی ستر فیصد حصہ ہم نے دوسری جگہ محفوظ کر لیا ہوا تھا۔اسی طرح لائبریری کا ٹرانسلیشن والا حصہ جو تھا وہ بھی تقریباً سو فیصد محفوظ ہے۔میرے نزدیک جو بعض تفصیلی ٹیپوں (tapes) کا نقصان ہوا ہے جن میں دوروں وغیرہ کی تفصیلات تھیں وہ ایسا نقصان نہیں ہے جسے کہا جائے کہ ہماری تاریخ اس سے ضائع ہو گئی کیونکہ اس کے بھی چنیدہ حصے محفوظ ہیں۔ایم ٹی اے کے حصے کا بچنا بھی ایک معجزہ ہی ہے کیونکہ ساتھ کی چھت کو جلا کر ہی آگ واپس ہوئی ہے یا بجھانے والوں کو اللہ تعالیٰ