خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 562 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 562

خطبات مسرور جلد 13 562 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء نتائج اخذ کئے جائیں گے۔مثلاً یہی واقعہ لے لو۔اس سے ایک بات یہ ثابت ہوگی کہ چھوٹے بچوں کو بھی بزرگوں کی مجالس میں لانا چاہئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں لوگ اپنے بچوں کو بھی آپ کی مجالس میں لاتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ آئندہ کسی زمانے میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں جو کہیں کہ بچوں کو بزرگوں کی مجالس میں لانے کا کیا فائدہ ہے۔ان مجالس میں صرف بڑوں کو شامل ہونا چاہئے۔کیونکہ جب فلسفہ آتا ہے تو ایسی بہت سی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ کہنا شروع کر دیا جاتا ہے کہ بچوں نے کیا کرنا ہے۔پس جب بھی ایسا خیال پیدا ہوگا یہ روایت ان کے خیال کو باطل کر دے گی۔اور پھر اس کی مزید تائید اس طرح ہو جائے گی کہ حدیثوں میں لکھا ہوا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں بھی صحابہ اپنے بچوں کو لاتے تھے۔اسی طرح اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی کام ہو تو اپناہاتھ چھڑا کر کام میں مشغول ہو جانا چاہئے کیونکہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جب اس بچے نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور تھوڑی دیر تک پکڑے رکھا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ کر الگ کر لیا۔آج یہ بات معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن ممکن ہے کسی زمانے میں لوگ سمجھنے لگ جائیں کہ بزرگ وہ ہوتا ہے جس کا ہاتھ اگر کوئی پکڑے تو پھر وہ چھڑائے نہیں بلکہ جب تک دوسرا اپنے ہاتھ میں اس کا ہاتھ لئے رکھے وہ خاموش کھڑا رہے۔ایسے زمانے میں یہ روایت لوگوں کے خیال کی تردید کر سکتی ہے اور بتا سکتی ہے کہ یہ لغو کام ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی کام کرنا ہو تو اگر کسی نے پکڑا ہوا ہے چاہے وہ بچہ ہی ہو تو محبت سے دوسرے کا ہاتھ الگ کر دینا چاہئے۔اس قسم کے کئی مسائل ہیں جو ان روایات سے پیدا ہو سکتے ہیں۔آج ہم ان باتوں کی اہمیت نہیں سمجھتے ( یہ اس زمانے کی بات ہے جب صحابہ زندہ تھے اس وقت آپ ان کو فرما رہے ہیں) مگر جب احمدی فقہ، احمدی تصوّف اور احمدی فلسفہ بنے گا تو اس وقت یہ معمولی نظر آنے والی باتیں اہم حوالے قرار پائیں گی اور آج بھی ان کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔اور بڑے بڑے فلسفی جب ان واقعات کو پڑھیں گے تو کود پڑیں گے (یعنی حیرانی اور خوشی سے اچھل پڑیں گے ) اور کہیں گے کہ خدا اس روایت کو بیان کرنے والے کو جزائے خیر دے کہ اس نے ہماری ایک پیچیدہ گتھی سلجھا دی۔(جب ایسے مسائل سامنے آئیں گے، ایسے واقعات سامنے آئیں گے جن سے مسائل حل ہوتے ہوں تو وہ فلسفی جن کو دین سے تعلق ہے، وہ بجائے اِدھر اُدھر دیکھنے کے اس روایت بیان کرنے والے کو دعا دیں گے۔پھر آپ فرماتے ہیں۔) یہ ایسا ہی واقعہ ہے جیسے اب ہم حدیثوں میں پڑھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ سجدے میں گئے تو