خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 39

خطبات مسرور جلد 13 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء سے اس کے حق میں بھی ہو گئے کہ آزادی رائے کا ہر ایک کو حق ہے۔لیکن اس کے باوجود ان لوگوں میں ایسے انصاف پسند اور عقلمند بھی ہیں جنہوں نے اس رسالے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیہودہ اظہار کو نا پسند کیا ہے اور نا پسند کرتے ہوئے اس کی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔مثلاً اس رسالے جس کا نام چارلی ایبڈو (Charlie Hebdo) ہے اس کے ابتدائی ممبر جن کا نام ہنری رسل ( Henri Roussel) ہے وہ کہتے ہیں کہ جو خاکے اس اخبار نے بنائے تھے وہ بھڑ کانے والے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اس غیر ذمہ دارانہ فعل کی وجہ سے ایڈیٹر نے اپنی ٹیم کو موت کے منہ میں دھکیل دیا اور کہتے ہیں کہ اس قسم کی باتیں ہماری بنیادی پالیسی کے خلاف تھیں جو یہ گزشتہ کئی سالوں سے کر رہے ہیں۔آزادی رائے کی کوئی حد ہونی چاہئے اسی طرح پوپ نے بڑا اچھا بیان دیا ہے کہ آزادی رائے کی کوئی حد ہونی چاہیئے۔آزادی رائے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بالکل چھوٹ دے دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہر مذہب کا ایک وقار ہے اور اس کا احترام ضروری ہے اور کسی بھی مذہب کی عزت پر حملہ نہیں کرنا چاہئے۔اپنی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے قریبی دوست ( جو اُن کے دوروں کو آرگنا ئز کرتے ہیں ) اگر وہ بھی میری ماں پر لعنت ڈالیں یا برا بھلا کہیں تو میر ارد عمل یہی ہو گا کہ میں اس کے منہ پر مکا ماروں گا اور ان کو مجھ سے اس رد عمل کی توقع رکھنی چاہئے کہ مکا ماروں گا۔بہر حال ان کا کسی کے جذبات کو بھڑ کا نا غلط ہے اور انہوں نے جذبات کو بھڑ کا یا ہے اس لئے قصور ان کا ہے۔پوپ نے بڑا حقیقی بیان دیا ہے۔مسلمانوں کو بھی اب عقل کرنی چاہئے اور اس کے بعد پھر غلط رد عمل نہیں دکھانا چاہئے۔آجکل میڈ یا دنیا پر چھایا ہوا ہے اور کہیں بھی آگ لگانے یا آگ بجھانے ،فساد پیدا کرنے یا فساد روکنے میں یہ بڑا کردار ادا کرتا ہے۔اس مرتبہ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس واقعے کے بعد یو کے(UK) اور دنیا کے مختلف میڈیا نے جماعت سے بھی ہمارا رد عمل یا موقف اس بارے میں پوچھا جس میں ہم نے اس قتل کے واقعے کے بارے میں بتایا کہ یہ غیر اسلامی فعل ہے اور ہم اس پر افسوس کرتے ہیں لیکن آزادی رائے کی بھی کچھ حدود ہونی چاہئیں ورنہ دنیا میں فساد پیدا کرنے کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جو دوسروں کے جذبات کو انگیخت کرتے ہیں۔بہر حال اس کے علاوہ کچھ تفصیلی باتیں پریس میں بیان ہوئی ہیں۔یوکے(UK) میں سکائی نیوز (Sky News)، نیوز فائیو (News Five) ، بی بی سی ریڈیو (BBC Radio)، ایل بی سی (LBC) ، بی بی سی لیڈز (BBC Leeds) اور لنڈن لائیو (London Live)، پھر