خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد 13 38 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جنوری 2015ء اندراندراس کی اشاعت کو پانچ ملین سے او پر پہنچا دیا۔اور اب بعض اندازے لگانے والے یہ کہتے ہیں کہ شاید اس اخبار کو دس بارہ سال اور مل گئے ہیں جو شاید چھ مہینے بھی نہ چلتا۔پس اس عمل نے دنیا کے بہت سے ممالک میں نہ صرف اسلام کی تعلیم کے غلط تصور کو ہوا دی ہے بلکہ مرتے دشمن کو زندہ کرنے کا کردار بھی ادا کیا ہے۔کاش کہ مسلمان تنظیمیں جو اسلام کے نام پر ظلم کرتی ہیں سمجھیں کہ اسلام کی پیارو محبت کی تعلیم زیادہ جلدی دنیا کو اسلام کی آغوش میں لاسکتی ہے۔اسلام جس طرح صبر اور حو صلے کی تعلیم دیتا ہے اس کا کوئی دوسرا مذ ہب مقابلہ ہی نہیں کرسکتا۔یہ دنیا دار تو وہ لوگ ہیں جن کی دین کی آنکھ اندھی ہے، جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی بات تو ایک طرف خود خدا تعالیٰ کا استہزاء کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ان جاہلوں کے عمل پر اگر ہماری طرف سے بھی جاہلانہ رد عمل ہو تو یہ ضد میں آکر مزید جہالت کی باتیں کریں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کے منہ لگنے کے بجائے ان لغویات سے پرلوگوں سے اعراض کرتے ہوئے علیحدہ ہو جاؤ۔صرف ان کی مجلس میں بیٹھنا یا ان کی ہاں میں ہاں ملانا ہی گناہ نہیں ہے یا گنہ گار نہیں بناتا بلکہ جب غلط کام کرنے والوں کو اس طرح الٹا کر جواب دیا جائے اور پھر وہ الٹا کر خدا تعالیٰ کا استہزاء کریں یا برا بھلا کہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کریں یا کسی بھی رنگ میں اظہار کریں تو تب بھی ہم میں سے جولوگ ایسا کرنے والے ہیں اس گناہ میں شامل ہور ہے ہوں گے۔پس ایک حقیقی مسلمان کو اس سے بچنا چاہئے۔معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ جب میرے پاس کوٹنا ہے تب ان کی حرکتوں کا خمیازہ انہیں بھگتنا ہو گا۔آخر ایک دن اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے تب اللہ تعالیٰ انہیں بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔آجکل دشمن اسلام کے خلاف تلوار اٹھانے کے بجائے ایسے ہی گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کر کے اسلام کو، اسلام کی تعلیم کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت بھیجتے ہیں ایک اصولی بات بتادی ہے کہ یہ حرکتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتیں۔تمہارا کام ان لغویات میں پڑنے کے بجائے، اسی طرح جہالت سے جواب دینے کے بجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجنا ہے۔یہ ایک حقیقی مسلمان کا کام ہے۔اس کا حق ادا کر و تو سمجھو کہ تم نے وہ فرض ادا کر دیا۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ وہ لوگ جو اس بیہودہ رسالے کے خلاف تھے اس حملے کے بعد ان میں سے بہت