خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 544 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 544

خطبات مسرور جلد 13 544 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء کاش کہ مسلمان ممالک اس بات کو سمجھیں کہ ان کے ذاتی مفادات نے اسلام کو کس قدر زد پہنچائی ہے اور شدت پسند گروہ اور تنظیمیں بھی اس وجہ سے ابھری ہیں کہ ہر سطح پر مفاد پرستی زور پکڑ رہی ہے۔ملکوں کے امن برباد ہورہے ہیں۔نہ خود امن میں ہیں، نہ دوسروں کو سلامتی پہنچارہے ہیں۔نہ حکومت رعایا کے ساتھ انصاف کر رہی ہے، نہ رعایا حکومت کے حق ادا کر رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ ان دونوں کی بے اعتدالیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: ”جب تک یہ دونوں پہلو ( یعنی حکومت کے فرائض اور رعایا کے فرائض ) اعتدال سے چلتے ہیں تب تک اُس ملک میں امن رہتا ہے اور جب کوئی بے اعتدالی رعایا کی طرف سے یا بادشاہوں کی طرف سے ظہور میں آتی ہے تبھی ملک میں سے امن اٹھ جاتا ہے۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 33) بد قسمتی سے یہی کچھ ہم آجکل اکثر مسلمان ممالک میں دیکھ رہے ہیں اور پھر اسلام دشمن قوتیں بھی اس سے اپنے مفادات حاصل کر رہی ہیں۔ایک طرف تو دونوں کی جھگڑے بڑھانے میں مدد کی جاتی ہے تو دوسری طرف شدت پسند گروہوں کی کارروائیوں کو شہرت دے کر پریس اور میڈیا بے انتہا کوریج دیتا ہے اور یہ کوریج دے کر اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے۔اسلام کے خلاف میڈیا کا ایک کردار میں نے بعض انٹرویوز جو میڈیا کو دیئے ان میں ایک بات یہ بھی انہیں کہی تھی کہ اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے اور اسے شدت پسند اور دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کرنے میں تم جو میڈ یا والے ہو تمہارا بھی ہاتھ ہے۔میڈیا انصاف سے کام نہیں لیتا۔کسی گروہ کے یا ملک کے حکمرانوں کے، جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، سیاسی عزائم کو تم مذہب کا نام دے کر پھر اسلام کی تعلیم کو بدنام کرتے ہو۔اور پھر اس کو اتنی شہرت دیتے ہو کہ تم نے دنیا میں رہنے والے لوگوں کی اسلام کے متعلق سوچیں ہی بدل دی ہیں۔یا جو اسلام کو جانتے نہیں ان کے ذہنوں میں اسلام کا ایسا تصور پیدا کر دیا ہے، ایسا ہو اکھڑا کر دیا ہے کہ ان کے چہرے اسلام کا نام سن کر ہی متغیر ہو جاتے ہیں۔اور جہاں تمہارے اپنے مفادات ہوں وہاں خبریں دبا بھی دیتے ہو۔مثلاً کچھ عرصہ پہلے آئرلینڈ میں جب شدت پسندی کے واقعات علیحدگی پسندوں کی طرف سے ہوئے تو پریس نے فیصلہ کر لیا کہ خبریں نہیں دینی یا پریس کو مجبور کیا گیا کہ خبریں نہیں دینی اور نتیجہ وہیں مقامی سطح پر ہی تھوڑا سا ابال اٹھا اور حکومت نے اسے دبا دیا۔یہ ٹھیک ہے کہ مسلمان ممالک میں حکومت