خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد 13 535 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن آپ نے فرمایا اچھا آپ بتائیں کہ انگریزی میں ”میرے پانی کو کیا کہتے ہیں۔اس نے کہا مائی واٹر (my water)۔آپ نے فرمایا عربی میں تو صرف مائي کہنے سے ہی یہ مفہوم ادا ہو جاتا ہے۔اب آپ بتائیں کہ مائی واٹر (my water) زیادہ مختصر ہے یا مائی۔اب اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزی نہیں جانتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی زبان پر ایسے الفاظ جاری کر دیئے کہ معترض آپ ہی پھنس گیا اور وہ سخت شرمندہ اور لا جواب ہو گیا اور کہنے لگا کہ پھر تو عربی زبان ہی مختصر ہوئی۔یہی حال قرآن کریم کا ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کو دشمنوں کے حملوں سے بچائے گا یعنی ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو قرآن کریم کو پڑھنے والے ہوں گے۔اس سے سچا عشق رکھتے ہوں گے اور اس کی تفسیر کرنے والے ہوں گے۔وہ دشمنوں کو ان کے حملوں کا ایسا جواب دیں گے کہ ان کا منہ بند ہو جائے گا۔دوسرے اس نے قرآن کریم کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا ہے کہ معترض جو بھی اعتراض کریں اس کا جواب اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا علم کلام حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ سرسید احمد خاں نے بھی اپنے زمانے میں عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب دیئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کر دیا جنہوں نے اتنے لمبے عرصے تک دشمن کا مقابلہ کیا کہ آپ کی وفات پر دشمنوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ نے اسلام کا دفاع ایسے شاندار رنگ میں کیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی مسلمان عالم نے اس طرح اسلام کا دفاع نہیں کیا۔یہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة :68) کا ہی کرشمہ تھا۔اللہ تعالیٰ کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ تھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہر حال بچانا ہے۔جب دشمن نے تلوار سے حملہ کیا تو اس نے اس کی تلوار کو کند کر دیا۔(دشمن کی تلوار میں ٹوٹ گئیں۔) اور جب اس نے تاریخ سے حملہ کیا تو خدا تعالیٰ نے ایسے مسلمان کھڑے کر دیئے جنہوں نے تاریخی کتب کی چھان بین کر کے دشمن کے اعتراضات کو رد کر دیا اور خود مخالفین کے بزرگوں کی کتابیں کھول کر بتایا کہ وہ جو اعتراضات اسلام پر کر رہے ہیں وہ ان کے اپنے مذہب پر بھی پڑتے ہیں۔اور جو حصہ قرآن کریم اور احادیث سے تعلق رکھتا تھا اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف کر دیا۔(ماخوذاز الفضل 22 نومبر 1956 ء صفحہ 2_4 جلد 45/10 نمبر 274)