خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 531
خطبات مسرور جلد 13 531 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء گئے۔پھر انہوں نے کہا اور کھا سکتا ہوں؟ تو احمدی نے جو اُن کے ساتھ تھے کہا کہ بیشک کھا ئیں ، جتنی مرضی کھائیں کیونکہ یہ مسیح کا لنگر ہے یہاں کوئی کمی نہیں ہے۔پس کیا وہ زمانہ تھا کہ ایک مہمان آتا تھا تو آپ اپنا کھانا اسے دے دیتے تھے اور خود فاقہ کرتے تھے اور کہاں آج کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں لوگ آپ کے دستر خوان سے کھانا کھا رہے ہیں اور یہ بھی انتہا نہیں ہے۔ابھی تو ان لنگروں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلنا ہے۔انشاء اللہ۔لاکھوں لوگوں نے ، کروڑوں لوگوں نے آپ کے دستر خوان سے کھانا کھانا ہے۔اسی طرح لاکھوں اور کروڑوں نے آپ کو ماننے کے بعد تقویٰ میں بھی بڑھنا ہے۔آج ہمیں دنیا کمانے والے احمدیوں میں قربانی کے جو معیار نظر آتے ہیں یہ بھی کوئی انتہا نہیں ہے۔اس میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔پس اگر کوئی غور کرنے والا ایک لنگر کے نظام کو ہی دیکھ لے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی حالات کو ، زمانے کو سامنے رکھے تو یہی آپ کی صداقت کا ایک نشان بن جاتا ہے۔بہت بڑا نشان ہے اور ہمارے ایمانوں میں تو یقیناً یہ اضافے کا باعث بنتا ہے۔اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر اس سارے نظام کو چلانے کے لئے مالی قربانی کی روح افراد جماعت میں پیدا ہوئی ہے تو یہ بھی اسی تقویٰ کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مجھ کر ہم میں پیدا ہوا۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حقیقی تقویٰ پیدا کرنے کی طرف مزید توجہ پیدا کرنے کی توفیق دے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں اور بعض واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں ، ان کو بیان کرتے ہیں اور جس طرح بیان کرتے ہیں اور بعض دفعہ آپ جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ بھی آپ کا ایک خاصہ ہے۔ایک عام آدمی کسی واقعے کی ظاہری حالت سے لطف تو اٹھا سکتا ہے اور لطف اٹھا کر گزر جاتا ہے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ اس میں سے جس طرح بڑے باریک نکات نکالتے ہیں وہ بھی ہمارے ایمان میں زیادتی کا باعث بنتا ہے اور معرفت میں ترقی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کے انداز اور ڈھنگ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کھانے کا ڈھنگ بالکل نرالا تھا۔میں نے کسی اور کو اس طرح کھاتے نہیں دیکھا۔آپ پھلکے سے پہلے ایک ٹکڑا علیحدہ کرتے (یعنی باریک روٹی، چپاتی جو ہوتی ہے۔) پھر لقمہ بنانے سے پہلے آپ انگلیوں سے اس کے ریزے بناتے جاتے اور منہ سے سبحان اللہ سبحان اللہ