خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 476
خطبات مسرور جلد 13 476 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اگست 2015ء پھر ان کا آپس میں تعلق، ہمارے معاشرے میں گڈا گڑی کا بیاہ بھی بچے کرتے ہیں۔پھر وہ لڑکیاں ماؤں کی نقل کر کے گڑیوں کو اپنی گود میں اٹھائے پھرتی ہیں۔انہیں پیار کرتی ہیں جس طرح مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اور جس طرح وہ ان کو اپنے سینے سے لگائے رکھتی ہیں تو یہ تو ہر معاشرے میں نظر آتا ہے۔کیونکہ ان کا دل چاہتا ہے کہ ہم کسی کی ہو جائیں یا کوئی ہمارا ہو جائے۔اسی طرح لڑکوں کو دیکھ لو۔جب تک ان کا بیاہ نہیں ہوتا ہر وقت ماں کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔بیاہ ہو جاتا ہے تو پھر بیوی۔تو اللہ تعالیٰ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔کہ انسان کی فطرت میں ہم نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ کسی نہ کسی کا ہوکر رہنا چاہتا ہے۔(ماخوذ از تعلق باللہ۔انوار العلوم جلد 23 صفحہ 137-136) اس کے بغیر اس کے دل کو تسلی نہیں ہوتی اور سب سے بہترین طریقہ کسی کا ہونے کا یہ ہے جس سے دین ودنیادونوں ملتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کا ہو جائے اور اس کے لئے کوشش کرے۔پھر حضرت مصلح موعود عشق کے معیار اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ گومثال تو ایک پاگل کی ہے پھر ایسے پاگل کی جواب فوت ہو چکا ہے اور گووہ ایک ایسے پاگل کی مثال ہے جو میرا استاد بھی تھا مگر بہر حال اس سے عشق کی حالت نہایت واضح ہو جاتی ہے۔ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے بعد میں وہ نبوت کے مدعی بھی بن گئے۔ان کا نام مولوی یارمحمد صاحب تھا۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجے میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آ گیا۔ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہومگر ہم نے تو یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر پیشگوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔پھر ان کا یہ جنون یہاں تک بڑھ گیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قریب ہونے کی خواہش میں بعض دفعہ ایسی حرکات بھی کر بیٹھتے جو نا جائز اور نا درست ہوتیں۔مثلاً وہ نماز میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرنے کی کوشش کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی اس حالت کو دیکھ کر بعض آدمی مقرر کئے ہوئے تھے تا کہ جن ایام میں انہیں دورہ ہو وہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ آپ کے پیچھے آکر نہ بیٹھ جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب آپ گفتگو فرماتے یا لیکچر دیتے تو اپنے ہاتھ کو رانوں کی طرف اس طرح لاتے جس طرح کوئی آہستہ