خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 475
خطبات مسرور جلد 13 475 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اگست 2015ء دوسروں نے پوچھا کیا تم نے گندم کی روٹی کھائی ہے اس نے کہا میں نے کھائی تو نہیں لیکن گندم کی روٹی ایک شخص کو کھاتے دیکھا ہے۔کھانے والے چٹخارے لے لے کر کھاتا ہے جس سے میں سمجھا کہ گندم کی روٹی بڑی مزیدار ہوتی ہے۔“ الفضل 17 فروری 1955 صفحہ 3 جلد 44/9 نمبر 41) تو ابھی تو یہ ذکر فرما رہے ہیں کہ کھانے کا بعض لوگوں کو بڑا شوق ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ ) بعض لوگ مرغا کھانے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی میرے بچپن کے دوست ہیں۔انہیں مرغے کی ٹانگ بڑی پسند تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی بڑی پسند تھی۔اور ایک دوست جو فوت ہو گئے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر کسی کو ساری عمر مرغے کی ٹانگ ملتی رہے تو اسے اور کیا چاہئے۔لیکن بہر حال حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) مجھے پسند نہیں (اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ دانتوں میں کوئی تکلیف تھی۔فرمایا کہ) بہر حال بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو لوگوں کو بہت مرغوب ہوتی ہیں اگر وہ چیزیں انہیں مل جائیں تو وہ بڑے خوش قسمت ہیں۔لیکن وہ چیزیں بہت ادنی اور معمولی ہوتی ہیں اور پھر ان چیزوں کے حصول کے لئے بھی اور ہزاروں چیزوں کی احتیاج انسان کو باقی رہتی ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر خدا تعالیٰ پر ہمیں یقین ہو اور اگر خدا تعالیٰ ہمیں مل سکتا ہو تو پھر قطعی اور یقینی طور پر انسان کہہ سکتا ہے کہ اس کے بعد مجھے کسی اور کی کیا ضرورت ہے۔(ماخوذ از تعلق باللہ۔انوارالعلوم جلد 23 صفحہ 127) خدا تعالیٰ کے ملنے کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکثر کسی صوفی کا قول پنجابی میں بیان فرمایا کرتے تھے کہ یا تو کسی کے دامن سے چمٹ جایا کوئی دامن تجھے ڈھانپ لے۔یعنی اس دنیا کی زندگی ایسی طرز پر ہے کہ اس میں سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں کہ یا تو تم کسی کے بن جاؤ یا کوئی تمہارا بن جائے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہی طنین “ سے پیدا کرنے کا مفہوم ہے ( کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے جس میں وہ اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے۔یعنی انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ یا تو وہ کسی کا ہوکر رہنا چاہتا ہے یا کسی کو اپنا بنا کر رکھنا چاہتا ہے۔دیکھ لو بچہ ابھی پوری طرح ہوش بھی نہیں سنبھالتا کہ کسی کے ہو جانے کا شوق اس کے دل میں گدگدیاں پیدا کرنے لگتا ہے۔بلوغت تو کئی سالوں کے بعد آتی ہے لیکن چھوٹی عمر میں ہی لڑکیوں کو دیکھ لو وہ کھیتی ہیں تو کہتی ہیں کہ میرا گڈا میری گڑیا، تیری گڑیا۔