خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 471

خطبات مسرور جلد 13 471 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء بھی ہوں یا نہیں۔پشاور کے رہنے والے یہ حافظ محمد صاحب ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ یہ باتیں سنتے ہی اس شخص سے مخاطب ہوئے جس نے یہ کہا تھا پتا نہیں میں مومن بھی ہوں یا نہیں۔اور کہنے لگے تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو۔کیا یہ سمجھتے ہو کہ تم مومن ہو یا نہیں۔اس نے کہا میں تو یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں۔حافظ صاحب کہنے لگے کہ اچھا اگر یہ بات ہے تو میں نے آج سے تمہارے پیچھے نماز ہی نہیں پڑھنی۔باقیوں نے کہا کہ حافظ صاحب اس کی بات ٹھیک ہے ایمان کا مقام تو بہت بلند ہے۔کہنے لگے اچھا پھر آج سے تم سب کے پیچھے میری نماز بند۔جب تم اپنے آپ کو مومن ہی نہیں سمجھتے تو تمہارے پیچھے نماز کس طرح ہو سکتی ہے۔غرض دوست پشاور پہنچے اور حافظ صاحب نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی۔جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ تم تو اپنے آپ کو مومن ہی نہیں سمجھتے۔میں تمہارے پیچھے نماز کس طرح پڑھوں۔آخر جب فساد زیادہ بڑھ گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حافظ صاحب ٹھیک کہتے ہیں ( جو انہوں نے کہا تھا ناں کہ تم کہتے ہو میں مومن نہیں)۔مگر صرف یہی نہیں کہ ٹھیک کہتے ہیں تو نماز نہیں پڑھنی۔فرما یا مگر یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی ہی چھوڑ دی کیونکہ انہوں نے کفر نہیں کیا تھا لیکن بات ٹھیک ہے۔ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض تھا کہ وہ اپنے آپ پر حسن ظنی کرتے۔جہاں تک کوشش کا سوال ہے انسان کو فرض ہے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے اور نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرے۔( حضرت مسیح موعود نے فرمایا مگر یہ کہ مومن ہونے سے انکار کر دے یہ غلط طریق ہے۔(ماخوذ از تعلق باللہ۔انوار العلوم جلد 23 صفحہ 145-144) آجکل گرمیوں میں تو یورپ میں جنگ ہی ننگ نظر آتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو لباس کو زینت بھی قرار دیا ہے اور ہم آجکل معاشرے میں دیکھتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا عریانی کو ہی فیشن سمجھ لیا گیا ہے۔اب انتہا یہاں تک ہو گئی ہے کہ گزشتہ دنوں یہ خبر تھی کہ کسی جگہ مسلمان لڑکیوں کا گروپ سائیکل چلا رہا تھا۔سائیکل چلاتے ہوئے گرمی محسوس کی تو انہوں نے کپڑے ہی اتار دیئے۔گویا اب وہ زمانہ بھی آگیا ہے جب جسم کے بعض حصے اخلاقا اور طبعاً ننگے رکھنا مسلمانوں کے لئے بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔کیا کبھی تو وہ زمانہ تھا کہ کم از کم اور خاص طور پر مسلمانوں میں اخلاقاً اور طبعاً ایک بہت بڑا طبقہ اس چیز کو معیوب سمجھتا تھا۔