خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 470 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 470

خطبات مسرور جلد 13 470 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء باقی رہی وہ روایت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہے اگر وہ درست ہے تو اس نحوست سے مراد صرف وہ نحوست تھی کہ آپ کی وفات منگل کے دن ہونے والی تھی ورنہ جب خدا تعالیٰ نے خود تمام دنوں کو با برکت کیا ہے اور تمام دنوں میں اپنی صفات کا اظہار کیا ہے تو اس کی موجودگی میں اگر کوئی روایت اس کے خلاف ہمارے سامنے آئے گی تو ہم کہیں گے کہ یہ روایت بیان کرنے والے کو غلطی لگی ہے۔ہم ایسی روایت کو تسلیم نہیں کر سکتے اور یا پھر ہم یہ کہیں گے کہ ہر ایک انسان کو بشریت کی وجہ سے بعض دفعہ کسی بات میں وہم ہو جاتا ہے ممکن ہے کہ ایسا ہی کوئی وہم منگل کی کسی دہشت کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ہو گیا ہو۔مگر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ دن منحوس ہے۔ہم اس روایت میں یا تو راوی کو جھوٹا کہیں گے یا پھر یہ کہیں گے کہ شاید بشریت کے تقاضے کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو اس دن کے بارے میں اپنے لئے بیان فرمایا۔ورنہ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں مسئلے کے طور پر یہی حقیقت ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ سارے کے سارے دن با برکت ہوتے ہیں مگر مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے ایک ایک کر کے دنوں کو منحوس کرنا شروع کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کامل طور پر نخوست اور ادبار کے نیچے آگئے۔(ماخوذ از الفضل 21 ستمبر 1960 ء صفحہ 3-2 جلد 49/14 نمبر 217) بعض لوگ اپنی عاجزی میں ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اس کا بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے اور بعض اپنی نظریات کی سختی میں زیادہ شدت اختیار کر لیتے ہیں۔یہ مزاج رکھنے والے دو اشخاص تھے جو اکٹھے ہو گئے۔ان کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک شخص حافظ محمد صاحب پشاور کے رہنے والے تھے۔قرآن کریم کے حافظ تھے اور سخت جو شیلے احمدی تھے۔میرا خیال ہے کہ وہ اہلحدیث میں رہ چکے تھے کیونکہ ان کے خیالات میں بہت زیادہ سختی پائی جاتی تھی۔وہ ایک دفعہ جلسے پر آئے ہوئے تھے اور قادیان سے واپس جا رہے تھے کہ راستے میں خدا تعالیٰ کی خشیت کے بارے میں باتیں شروع ہو گئیں۔کسی شخص نے کہا کہ اللہ کی شان تو بہت بڑی ہے۔ہم لوگ تو بالکل ذلیل اور حقیر ہیں۔پتا نہیں کہ خدا ہماری نماز بھی قبول کرتا ہے یا نہیں۔ہمارے روزے بھی قبول کرتا ہے یا نہیں۔ہماری زکوۃ اور حج بھی قبول کرتا ہے یا نہیں۔اس پر ایک دوسرا شخص بولا کہ اللہ تعالیٰ کی بڑی شان ہے۔میں تو کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ میں مومن