خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد 13 453 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء لدھیانوی بہت بڑے بزرگ تھے اور اپنے زمانے کے نیک لوگوں میں سے تھے۔ایک دفعہ مہاراجہ جموں نے ان کو دعوت دی کہ آپ جموں آ کر میرے لئے دعا کریں۔مگر آپ نے انکار کر دیا اور کہ دیا کہ اگر آپ دعا کرانا چاہتے ہیں تو میرے پاس یہاں آئیں۔(ماخوذ از الفضل 30-27 مارچ 1928 ء صفحہ 9 جلد 15 نمبر 77-76) میں آپ کے پاس کیوں چل کر جاؤں۔پس اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو تو جتنا مرضی کوئی بڑا آدمی ہوانسان اس سے نہیں ڈرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لوگوں کی پہلے کس قدر عقیدت تھی اس کا اور پھر آپ کے دعوے کے بعد کیا حالت ہو گئی ، اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے بیان کیا کہ دیکھو براہین احمدیہ کی شہرت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں آدمی آپ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ایک کی تو شہادت بھی موجود ہے جو دعوے سے پہلے ہی وفات پاگئے۔یعنی حضرت صوفی احمد جان صاحب (جن کا ابھی پہلے ذکر ہوا ہے جنہوں نے راجہ کو کہا تھا کہ دعا کروانی ہے تو یہاں آؤ۔صوفی احمد جان صاحب ) لدھیانوی نے دعویٰ سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔پہلے بھی ہم کئی دفعہ سن چکے ہیں۔آپ کا ایک شعر ہے کہ ) سب مریضوں کی ہے تمہی پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے ہے۔یہ تو ایک ڈور بین ولی اللہ کی نظر تھی۔( صوفی احمد جان صاحب تو ایک ولی اللہ تھے۔ان کی ایک دور بین نظر تھی جنہوں نے دیکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی مسیح موعود ہیں۔چاہے دعوی ہے یا نہیں۔مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن کی نگاہ اتنی دور بین نہ تھی وہ بھی سمجھتے تھے کہ اسلام کی نجات آپ سے وابستہ ہے۔مگر جب وہ ہتھیار آپ کو دیا گیا (یعنی وہ ہتھیار جس نے اسلام کو فتح کرنا تھا) جس سے دشمن پامال ہوسکتا تھا۔وہ آب حیات دیا گیا جس سے مسلمانوں کی زندگی مقدر تھی تو بڑے بڑے مخلص آپ سے متنفر ہو گئے اور کہنے لگے جسے ہم سونا سمجھتے تھے افسوس وہ تو پیتل نکلا۔ایسے لاکھوں انسان یکدم بدظن ہو گئے۔حتی کہ جب آپ نے بیعت کا اعلان کیا تو پہلے روز صرف چالیس اشخاص نے بیعت کی۔یا تو لاکھوں لوگ اخلاص رکھتے تھے اور ( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ) پرانے لوگ سناتے ہیں کہ کس طرح بڑے بڑے علماء کہتے تھے کہ اسلام کی خدمت اسی شخص سے ہوسکتی ہے اور خودلوگوں کو آپ کے پاس بھیجتے تھے حتی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ براہین کے شائع ہونے پر میں مرزا صاحب کی زیارت کے لئے پیدل چل کر قادیان گیا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جنہوں نے آخر میں اپنا سارا زور مخالفت میں