خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 405
خطبات مسرور جلد 13 405 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا امر وراحمدخلیفہ اسی الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 10 / جولائی 2015 ء بمطابق 10 وفا 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج بائیس روزے گزر گئے یا بائیسواں روزہ گزر رہا ہے اور یوں ہم رمضان کے آخری عشرہ میں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کے عشروں میں سے گزرتے ہوئے جہنم سے نجات دلانے والے عشرہ میں سے گزر رہے ہیں۔(الجامع لشعب الایمان کتاب الصیام باب فضائل شهر رمضان جلد 5 صفحه 224 مكتبة الرشد طبع 2004ء حدیث نمبر 3336) پس یہ اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ موقع نصیب فرمایا۔لیکن ایک مومن جس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور اس کا تقویٰ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف بھرا ہوا ہے، وہ صرف اس بات پر خوش نہیں ہو سکتا کہ یہ دن یا عشرے جو اللہ تعالیٰ نے میسر فرمائے میری نجات کا سامان بن گئے۔یہ دن بیشک رحمت مغفرت اور جہنم سے نجات کے دن ہیں لیکن کیا ہم نے ان دنوں کے فیض سے فیض بھی پایا ہے؟ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات اور ارشادات بغیر کسی شرط کے نہیں ہوا کرتے۔ان کے ساتھ بعض شرائط ہوتی ہیں۔پس ان دنوں کی رحمت سے فیض پانے کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں اور ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے حصہ لینے کی بھی کچھ شرائط ہیں اور جہنم سے نجات کے لئے بھی کچھ شرائط کا پابند ہونا ضروری ہے۔پس ہمیں ان چیزوں سے فیض پانے کے لئے ان باتوں کی تلاش کی ضرورت ہے جن سے ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہوئے اس کے فضلوں کے مورد بنیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں بعض مفترین دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ایک قسم تو رحمت کی یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان