خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 401

خطبات مسرور جلد 13 401 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء معاشرہ حقیقی طور پر اس معیار تک پہنچتا ہے جسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنت نظیر معاشرہ ہے۔اس کا نظارہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں نظر آتا ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا کہا ور با وجود غریب ہونے کے دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔پس جب ایسی سوچ اور ایسے عمل ہوتے ہیں تو پھر قربانیوں کی روح پیدا ہوتی ہے۔اپنے نفس کے جذبات کو بھی انسان دباتا ہے۔دوسروں کے لئے بھلائی چاہتا ہے اور احسان کا سلوک بھی کرتا ہے۔اس کردار کی عظمت کی اعلیٰ ترین مثال تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں نظر آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے اپنی بیٹی کے قاتل کو بھی معاف فرما دیا۔(السيرة الحلبية جزء 3 باب ذكر مغازيه والله صفحه 132-131 مطبوعہ بیروت 2002ء) اور بے شمار اور مثالیں ہیں۔پھر آپ نے اپنے صحابہ کو غصہ دبانے اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کی کس طرح تلقین فرمائی اور تربیت کی۔اس بارہ میں مشہور روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے اس شخص کی باتیں سن کر مسکراتے رہے۔جب اس شخص کی زیادتی کی انتہا ہو گئی تو حضرت ابو بکر نے اس کی کچھ باتوں کا کچھ سختی سے جواب دیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار آئے اور آپ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور بعد میں حضرت ابوبکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ وہ شخص آپ کی موجودگی میں برا بھلا کہہ رہا تھا اور آپ بیٹھے رہے اور جب میں نے اس کی کچھ باتوں کا جواب دیا تو آپ غصے میں وہاں سے تشریف لے گئے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ گالی دے رہا تھا اور تم خاموش تھے تو خدا تعالیٰ کا ایک فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا۔لیکن جب تم نے الٹ کر جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آ گیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحه 547-546 مسندابی هریرة حدیث نمبر 9622 مطبوعه بيروت 1998ء) اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح صحابہ کی تربیت فرمائی کہ ان کے جائز حصوں کو بھی عفو میں بدل دیا