خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 400
خطبات مسرور جلد 13 400 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء پھر آپ نے فرمایا کہ : ” خدا کے واحد ماننے کے ساتھ یہ لازم ہے کہ اس کی مخلوق کی حق تلفی نہ کی جاوے۔جو شخص اپنے بھائی کا حق تلف کرتا ہے اور اس کی خیانت کرتا ہے وہ لا ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 106 حاشیہ ) اِلهَ إِلَّا اللہ کا قائل نہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ : ” خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔چنانچہ لباس التقویٰ، قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے“۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 210) پس امانتوں کے دقیق اور باریک پہلو تلاش کر کے ان پر عمل کرنا ہمیں امانت کی ادائیگی کرنے والا بناتا ہے جس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔تمام حقوق جو ہمارے ذمہ ہیں یہ ایک امانت ہیں۔تمام فرائض جو ہمارے ذمہ لگائے گئے ہیں یہ ایک امانت ہیں اور ان کی ادائیگی ہم پر فرض ہے۔اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں تو یہ فرض ادا کرنا ضروری ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اس پر بہت غور کرنے کی ضرورت ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کا ایک اور حکم میں نے آج بیان کرنے کے لئے لیا ہے جو معاشرے کے حسن اور خوبصورتی کو نکھارنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران : 135 ( یعنی وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دیا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ حقوق کی ادائیگی ہر مسلمان پر فرض ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حقوق کی ادائیگی کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ بلکہ اس سے بھی آگے جا کر ہمیں یہ نصیحت فرمائی کہ معاشرے کی خوبصورتی حقوق کی ادائیگی سے بھی آگے جا کر قربانی کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔صرف حق نہیں ادا کرنے بلکہ حق ادا کرنے کے لئے بعض دفعہ قربانی بھی کرنی پڑتی ہے۔جس معاشرے میں ہر انسان نہ صرف ایک دوسرے کے حق ادا کر رہا ہو بلکہ قربانی کر کے حق ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہو وہ