خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 384
خطبات مسرور جلد 13 384 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء ہے جب ہم خود اس معاملے میں ملوث ہوں اور خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی دے کر اس امن اور پیار کو قائم کرنے کی کوشش کریں جس کا اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہوتا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل وعیال سمیت نجات پاؤ۔خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اس سے کرو ( یعنی خدا سے کرو۔جس قدر دنیا میں انسان کسی سے محبت کر سکتا ہے یا محبت ممکن ہے تم اس سے کرو) اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈرسکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر تا تم پر رحم ہو۔نزول امسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 402-403) پس یہ وہ حالت ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔ان دنوں میں ایک کوشش کے ساتھ اپنے ہر قسم کے تکبر کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔سلامتی پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعاؤں کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے۔پھر آپ علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ: ” خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہر گز نہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ذلت کی موت دیوے۔جو اس کی طرف آتا ہے وہ بھی ضائع نہیں ہوتا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نامراد رہا۔( پس یہ سچا تعلق ضروری شرط ہے۔” خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہش اس کے حضور پیش نہ کرے“۔(صرف ذاتی خواہشات نہ ہوں اور کوئی مقصد نہ ہو کہ مقصد ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔بلکہ فرمایا کہ ) اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے“۔( نفسانی خواہش پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے۔جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خود بخود اس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرما تا ہے مَن يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3 - 4) اس جگہ رزق سے مراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزت علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرہ بھر