خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 376

خطبات مسرور جلد 13 376 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 جون 2015ء اپنی نا اہلیوں کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔لیکن اس سب کے باوجود ہم وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان مقصد کے حصول کی ذمہ داری ڈالی ہے اور یہ ذمہ داری بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کئے ادا نہیں ہو سکتی۔پس ہمیں دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس مضمون کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ بڑے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے یا سمجھایا ہے کہ اگر واقعہ میں کمزور اور نا تواں ہیں اور اگر واقعہ میں جو کام ہمارے سپر د کیا گیا ہے نہایت ہی اہم اور مشکل ہے تو سوال یہ ہے کہ ایسا کام ہم سے کس طرح سرانجام دیا جا سکتا ہے اور ادھر یہ کام اپنے اتمام کے لئے یعنی اس کو پورا کرنے کے لئے ایک بہت بڑی طاقت چاہتا ہے اور ادھر ہم کمزور اور نا تواں ہیں۔پس دو باتوں میں سے ہمیں ایک تسلیم کرنی پڑے گی۔یا تو ہم یہ ما نہیں کہ ہمارے ان دو دعووں میں سے ایک دعویٰ غلط ہے یعنی یا ہمارا انکسار کا دعویٰ غلط ہے ہم اتنے عاجز تو نہیں ہیں یا کام مشکل ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔اور اگر یہ دونوں صحیح ہیں تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری کوششوں کے سوا بھی کوئی ذرائع مقرر فرمائے ہیں۔یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ یہ کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے اس نے ضرور ہو کر رہنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس مقصد کے لئے آئے یقیناً اس مقصد کو پورا کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے پورا کروا کر رہنا ہے۔اسلام اور احمدیت کا غلبہ دنیا پر ہوکر رہنا ہے انشاء اللہ اور اس میں ہمیں ذرہ بھر بھی شک نہیں۔پس اس کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا کا طریقہ سکھایا ہے کہ دعا کرو کہ اے اللہ ! ہمارے ہاتھوں سے یعنی ہماری کوششوں سے تو یہ مقصد پورا ہونے والا نہیں ہے۔ہم تو کمزور بھی ہیں، عاجز بھی ہیں، کام بہت بڑا ہے اور صرف ہماری کوششیں تو پورا نہیں کر سکتیں۔ہاں ہم تیرے حکم کے ماتحت ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔لیکن تو بھی اپنے فضل سے ان مخفی ذرائع کو ظاہر کر اور ہماری تائید میں لگا دے جو تو نے اس مقصد کے پورا کرنے کے لئے مقرر فرمائے ہیں تا کہ یہ ناممکن کام ممکن ہو جائے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ظاہری آلہ بنایا ہے ورنہ اصل آلۂ کار جس نے دنیا کو فتح کرنا ہے وہ کوئی اور آلہ ہے لیکن ایک درد ان فتوحات کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے دلوں میں بہر حال ہونا چاہئے اور وہ درد دعاؤں کی صورت میں ہمارے دلوں سے نکلنا چاہئے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مثال دی کہ ہماری مثال وہی ہے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر اٹھا کر بدر کے دن پھینکے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ