خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 350
خطبات مسرور جلد 13 350 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء صرف اعتقادی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والے نہ ہوں بلکہ عملی تبدیلیاں بھی ہمارے اندر نظر آئیں اور جیسا کہ میں نے کہا لوگ کہیں کہ یہ تو کوئی بالکل اور انسان ہو گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ اس کی خوبصورت وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو قسم کے نشانات ہیں۔ایک تو وہ جن کا پورا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔دوسرے وہ جن کے پورا ہونے میں ہمارا بھی دخل ہے اور جو ہمارے ذریعہ سے یا ہمارے واسطے سے پورے ہونے ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لئے ہمیں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔کئی علوم ایسے ہوتے ہیں جن کو نبی سمجھ سکتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو نبی کی ضرورت ہی کیوں ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے چودہ سو سال بعد ایسی باتیں بتائیں جو موجود تھیں لیکن مسلمانوں کو ان کا علم نہ تھا یا حیح فہم نہ تھا مثلاً تمام مذاہب کی صداقت۔آپ نے بتایا کہ وہ پیشوا جس کے لاکھوں کروڑوں پیرو ہوں اور پھر ایک لمبا عرصہ ماننے والے اس پیشوا سے ہدایت حاصل کرتے رہے ہوں اس کے پاس ضر در صداقت ہوتی ہے۔بیشک بعد میں ان کی تعلیم میں تحریف ہو گئی اور وہ مذہب اپنی اصلی حالت میں نہ رہا جس طرح بدھ ہیں، زرتشت ہیں، کرشن ہیں۔اپنے اپنے زمانے کے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اور صداقت کے حامل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے بڑے بڑے بزرگ بھی اگر دوسری قوموں کے بزرگوں کو ، ان کے مذہبوں کے سربراہوں کو برا نہیں کہتے تھے تو مشتبہ ضرور تھے۔تسلی بہر حال نہیں تھی کہ پتا نہیں اصل حقیقت کیا ہے۔لیکن بہر حال جو لوگ اپنے پیشواؤں کی صحیح تعلیم کو مانتے ہیں دوسروں کی نسبت ان کی حالت بہتر ہے۔اگر ان کی تعلیم پر عمل کیا جائے تو دنیا بڑی پر امن ہو سکتی ہے اور ایک نمایاں تبدیلی یہاں نظر آ سکتی ہے۔لیکن اس کے برعکس جس تعلیم سے اگر برے نتائج نکل رہے ہوں تو وہ بری ہوتی ہے۔ان تمام پہلے انبیاء کی تعلیم شیطان کے خلاف تھی اور اگر یہ شیطان کی تعلیم ہوتی تو کوئی ان کی پیروی نہ کرتا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔یہ نکتہ قرآن کریم میں موجود تھا لیکن کسی کو اس کا علم نہ ہو سکا یا اس طرح وضاحت نہیں کر سکا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بیان فرمایا۔آج اس کے باوجود کہ مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کے خلاف ہیں لیکن یہی کہتے ہیں اور اس بات کو مانتے ہیں کہ تمام مذاہب کی بنیاد صداقت پر ہے۔مسلمانوں کا ایک بڑا تعلیمیافتہ طبقہ جو ہے